نیوزی لینڈ کی فوج حکومت اور عوام کو دھوکہ دیتی رہی ،رپورٹ

ولنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) نیوزی لینڈ کی فوج کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم کے حوالے سے غلط بیانی کا انکشاف ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اگست 2010ء میں کیوی فوج نے افغانستان کی وادی ترگیاں میں’آپریشن برن ہام‘کے دوران کئی معصوم شہریوں کو ہلاک کیا تھا، تاہم فوجی عہدے دار حکومت سے جھوٹ بولتے آئے کہ کارروائی کے دوران کوئی شہری متاثر نہیں ہوا۔ جمعہ کے روز انکوائری کمیٹی نے انکشاف کیا کہ آپریشن میں مجموعی طور پر 7 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے، تاہم فوجی عہدے داروں نے مسلسل حکومت کو اندھیرے میں رکھا۔ اس دوران ایک بچی بھی کیوی فوج کی درندگی کا نشانہ بنی، جس کی عمر 8 سال تھی۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت نے ایک آزاد ملٹری واچ ڈاگ قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے، جس کی سربراہی سابق وزیر اعظم جوفرے پالمر کریں گے۔ ادھر اٹارنی جنرل ڈیوڈ پارکر کا کہنا تھا کہ حکومت کو 400 صفحات پر مشتمل رپورٹ موصول ہوئی، جس میں بیان کیے گئے حقائق سے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کیوی فوج نے اپنی نااہلی پر نیوزی لینڈ کی حکومت، عوام اور متاثرین سے معافی مانگ لی ہے۔ دوسری جانب ولنگٹن حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کے لیے امدادی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فنڈ پروگرام کے تحت ہلاک ہونے افغان شہریوں کے اہل خانہ اور زخمیوں کو امداد دی جائے گی۔ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کے معروف صحافی جان اسٹیپ ہینسن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور وہ خود متاثرین کو امداد فراہم کریں گے۔ بیان میں کیوی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمارا کوئی بھی اقدام متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کرسکتا ہے نہ اس سے غلطی کو درست کیا جاسکتا ہے، تاہم ولنگٹن حکومت اس معاملے میں معذرت پیش کرتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں