بھارت اور نیپال کے درمیان گوتم بدھ پر بھی تنازع

نئی دہلی؍ کٹھ منڈو (انٹرنیشنل ڈیسک) نیپالی وزیر اعظم کی جانب سے ہندوؤں کے مذہبی کردار رام کی جائے پیدایش سے متعلق متنازع دعوے کے جواب میں بھارتی وزیر خارجہ نے بھی گوتم بدھ سے متعلق بیان داغ دیا۔ ایس جے شنکرکا کہنا تھا کہ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ بھارت کی 2عظیم شخصیات ہیں۔ بیان کے ردعمل میں نیپال نے سخت اعتراض کیا، جس پر بھارت کو اپنے موقف کی وضاحت پیش کرنی پڑ گئی۔ نیپالی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ گوتم بدھ کی پیدایش نیپال میں ہوئی تھی اور ان کا عدم تشدد کا فلسفہ بھی نیپال ہی سے دنیا میں پھیلا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے،جس پر ناقابل تردید تاریخی شواہد موجود ہیں کہ گوتم بدھ نیپال کے شہر لمبنی میں پیدا ہوئے تھے۔ نیپال کے سابق وزیر خارجہ مدھو رمن آچاریہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ گوتم بدھ نے بھارت میں اپنے مذہبی خیالات کی ترویج و اشاعت کی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھارتی بن گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نیپالی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندووں کے مذہبی کردار رام بھارتی نہیں نیپالی تھے، جس کے بعد دونوں ممالک میں مذہبی تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ وزیر اعظم اولی نے اس حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رام بھارتی ایودھیا کے بجائے نیپال کے ایودھیا گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دعویٰ کرتا ہے کہ رام ان کے ہاں پیدا ہوئے تھے، لیکن حقیقت میں ان کا جنم نیپال کے بیرگنج کے مغربی گاؤں میں ہوا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں