ترکی کی جنگی مشقیں، یونانی فوج انتہائی الرٹ

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرۂ روم میں ترکی کی فوجی مشقوں کے باعث یونانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام مشرقی بحیرہ روم میں فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی کے اندیشے کے سبب کیا گیا ہے۔ ترکی 2 جزیروں روڈس اور کیسٹیلوریزو کے درمیان مشقوں کی تیاری کررہا ہے۔ یونانی فوج کی قیادت نے تقریباً تمام یونٹوں میں فوجی اہل کاروں کی رخصت منسوخ کرتے ہوئے چھٹی تک پر گئے ہوئے افسران کو طلب کر لیا ہے۔ یونانی فوج تیز رفتاری کے ساتھ حرکت میں آ رہی ہے، بالخصوص حساس مقامات پر ان میں ترکی کی زمینی سرحد کے نزدیک واقع یونانی علاقہ ایفروس شامل ہے۔ ترکی کی جانب سے مشقوں کا پروگرام یونان اور مصر کے درمیان سمندری حدود سے متعلق خصوصی سمجھوتا طے پانے کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ادھر یورپی یونین کے وزیر خارجہ جوزف بورل کا کہنا ہے کہ مصر اور یونان کے درمیان سمندری حدود کا معاہدہ دستخط ہونے کے بعد بحیرہ روم میں ترکی کی سمندری نقل و حرکت شدید تشویش کا باعث ہے۔ بورل نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں اختلاف اور عدم اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ ادھر تُرک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم معاہدے اور استحکام کو خراب کرنے میں یونان کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ماہ سے یونان کے ساتھ ہمارے مذاکرات جاری تھے، لیکن اس نے مصر کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں