چین نے 5 سینیٹرز سمیت 11 امریکی شخصیات پر پابندیاں لگادیں

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے امریکی سینیٹ کے 5 ارکان اور ایوان نمائندگان کے رکن سمیت 11 اہم شخصیات پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بیجنگ نے یہ پابندیاں واشنگٹن کی طرف سے چینی حکام پر ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے ردعمل میں لگائی ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بتایا کہ بیجنگ حکومت کا اقدام امریکا کے اس حالیہ عمل کا رد عمل ہے، جس کے تحت امریکا نے چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میںبیجنگ کی طرف سے کریک ڈاؤن کے باعث کئی اعلیٰ چینی حکام پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ چین کی طرف سے سرکردہ امریکی شخصیات پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ امریکا چینی حکام پر پابندیاں لگا کر چین کے داخلی معاملات میں انتہائی نوعیت کی بے جا مداخلت اور بین الاقوامی قانون کی شدید خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ چینی پابندیاں جن امریکی شہریوں پر لگائی گئی ہیں، ان میں سے 5 امریکی سینیٹ کے ارکان ہیں اور چھٹے ایوان نمایندگان کے ایک رکن ہیں۔ دیگر 5 زد میں آنے والی شخصیات انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر کینیتھ رَوتھ، امریکا کے نیشنل اینڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی کے صدر کارل گیرشمین، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ کے صدر ڈیریک مچل، انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کے صدر ڈینیل ٹوائننگ اور فریڈم ہاؤس نامی امریکی تنظیم کے صدر مائیکل ابرامووِٹس ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں