امریکا کو کسی بھی نئی غلطی پر سخت ردعمل کا سامنا ہوگا ، ایران

 

تہران/ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکا کوئی نئی غلطی نہ کرے، ورنہ اسے ایران کے فیصلہ کن ردعمل کا سامنا ہوگا۔ یادر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر جنرل سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے امریکا پر حملے کی تیاری کررہاہے، ایران نے ایسا کیا تو ہزار گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے۔ یہ بات ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ ایک امریکی میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے امریکی سفیر کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میگزین پولی ٹیکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے مقتول جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے جنوبی افریقا میں امریکی سفیر کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ امریکی میگزین کا کہنا ہے کہ ایران جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے راہیں تلاش کر رہا ہے اور امریکی سفیر کو قتل کیا گیا تو دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ خیال رہے کہ جنوبی افریقا میں تعینات امریکی خاتون سفیر لانا مارکس اکتوبر میں تعینات ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس پہلے سے لانا مارکس کو لاحق خطرات سے آگاہ ہے، تاہم مذکورہ خطرات حالیہ ہفتوں میں زیادہ مخصوص ہو چکے ہیں۔ لانا مارکس کو سفیر کے عہدے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں نامزد کیا تھا، تاہم انہوں نے اکتوبر 2019ء میں حلف اٹھایا۔ میگزین کے مطابق امریکی حکومتی اہل کاروں نے کہا ہے کہ لانا مارکس کو بھی انٹیلی جنس کمیونٹی پروٹوکول کے تحت خطرے سے آگاہی دی جا چکی ہے، جب کہ ان کے خلاف منصوبہ بندی میں پریٹوریا میں واقع ایرانی سفارتخانہ ملوث ہے، تاہم انٹیلی جنس یہ جاننے سے قاصر ہے کہ لانا مارکس ہی کیوں ہدف ہے۔ یاد رہے کہ امریکا نے قاسم سلیمانی کو بغداد میں 3جنوری 2020ء کو ایک ڈرون حملے میں قتل کر دیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں