بھارت: مسلم وکلاء کو ہٹا کر ہندوؤں کی تعیناتی

بھارتی ریاست آسام کے ضلع دھبری میں کام کرنے والے 7 مسلمان اسسٹنٹ سرکاری وکلاء کی جگہ ہندوؤں کو تعینات کردیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق معطل کیے گئے 7 مسلمان اسسٹنٹ سرکاری وکلاء جو مقامی فارنرز ٹریبیونل سے وابستہ تھے، کو ہٹا کر بنگالی ہندو کمیونٹی کے وکیلوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ سرکاری وکلاء جن کا کام مقامی ٹریبیونل میں سرکار کی جانب سے کیس دائر کرنا ہوتا ہے، کی جگہ بنگالی ہندوؤں کو تعینات کیا گیا ہے۔

سرکار کی جانب نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کمال حسین کی جگہ کل چندر کرمارکر، ناصر علی کی جگہ ادھیر چندر رائے، رابع الحق کی جگہ انندا پال، امین الاسلام کی جگہ ریتو پرناگہا اور آفتاب دیں کی جگہ شنکر پرساد کو بطور اسسٹنٹ سرکاری وکیل کے مقرر کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال آئی این آر سی کی حتمی فہرست سے مستثنیٰ 19 لاکھ لوگوں میں بڑی تعداد بنگالی ہندوؤں کی تھی جو کہ بی جے پی کا ووٹ بینک مانے جاتے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں