خاتون سے اجتماعی زیادتی حیوانیت نہیں درندگی ہے، عدنان صدیقی

کراچی: اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ عورت کا معاشرے میں برابر کا حصہ ہے، عورت کو پیر کی جوتی سمجھ لینا اب ناممکن ہے۔

موٹروے زیادتی کیس کے خلاف شوبز سے وابستہ شخصیات بھی پیش پیش رہی ہیں اور مختلف فنکار اس حوالے سے اپنے خیالات سے قوم کو آگاہ کرچکے ہیں، ادکارہ نیلم منیر نے وزیراعظم عمران خان سے عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کیا تو بشری انصاری نے ایسے مجرمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کی بات کی۔

اس حوالے سے کراچی پریس کلب میں احتجاج کے دوران اداکار عدنان صدیقی نے کہا کہ یہ حیوانیت نہیں درندگی ہے، انسانیت کا کردار نظر نہیں آرہا، بحیثیت مرد میں شرمندہ ہوں، اکیلی عورت ذمہ داری ہوتی ہے، اس درندگی کے بعد جوعورتیں انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں، انہیں سلام پیش کرتا ہوں، عورت مظلوم نہیں مضبوط ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ نیلم منیر نے عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کردیا

عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ عورت کا معاشرے میں برابر کا حصہ ہے، عورت کو پیر کی جوتی سمجھ لینا اب ناممکن ہے، جب تک احتساب نہیں ہوگا ہم تب تک یہ بات کرتے رہیں گے، عدالتوں میں پیشی کے وقت خواتین کو کیمروں پر شوٹ کیا جاتا ہے، خواتین سے عجیب سوالات کئے جاتے ہیں، یہ اب بند ہونا چاہئیے، یہ میری آپ کی اور اس معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کردینی چاہیے، بشریٰ انصاری

اداکار نے کہا کہ  ہمارے آفیشلز ایک دوسرے کو ملزموں کا سراغ ملنے پر مبارکباد دے رہے ہیں لیکن یہ حیوانیت کب تک ہوتی رہے گی، پنجاب واقعہ پر ہمارا سر شرم سے جھکا ہوا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں