شام پر 3سال میں 200 سے زائد اسرائیلی حملے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے گزشتہ 3 سال کے دوران شام پر 200 سے زائد حملے کیے ہیں اور بیشتر میں ایرانی فورسز اور اس کی ماتحت ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی جارحیت کا زیادہ شکار لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور اس سے وابستہ عناصر بنے ہیں۔ امریکی چینل فوکس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں شمالی شام میں فضائی حملے کرکے میزائل تیار کرنے والی ایک تنصیب کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 13 ستمبر کو پیش کیے جانے والے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس تازہ کارروائی کا مقصد شام میں حزب اللہ ملیشیا کے لیے میزائلوں کی تیاری کو کمزور کرنا تھا۔ دوسری جانب شمالی شام میں مزاحمت کاروں کے زیر کنٹرول علاقے عفرین میں ایک کار بم حملے میں 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دہشت گردی کی یہ کارروائی کرد علاحدگی پسند تنظیم پی کے کے کی جانب سے کی گئی ہے، تاہم وہ اس کی ذمے داری قبول کرنے سے گریزاں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں