صہیونی انتظامیہ بیت المقدس میں مسجد شہید کرنے کے درپے

بیروت: حماس رہنما اسماعیل ہنیہ لبنان مین تعینات فلسطینی سفیر کے ساتھ خطے میں اسرائیل نوازی کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کررہے ہیں

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے فوراً بعد قابض ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مزعومہ صہیونی کارروائیوں میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی بلدیہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان قصبے میں عین اللوزہ کے قریب القعقاع مسجد کو مسمار کرنے کا حکم جاری کردیا، جس کے بعد شہریوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ قابض انتظامیہ نے مسجد کو گرانے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ 2 منزلہ مکان ہے، جسے 8 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ دریں اثنا اسرائیلی فوج نے تحریک فتح کے سیکرٹری احمد العباسی کے گھر کی مسماری کا حکم نامہ بھی بھیج دیا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی عدالت نے اپنے ایک متعصبانہ فیصلے میں مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے خاندان کو اُس کے گھر سے بے دخل کرکے جائداد یہودی آباد کاروں کو دینے کا حکم سنا دیا۔ اُدھر مسجد اقصیٰ کے تاریخی مقام مصلیٰ باب رحمت میں قابض صہیونی اہل کاروں نے اچانک دھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ اس موقع پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری جوتوں سمیت مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئی اور اشتعال انگیزی کا کھلا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب قابض صہیونی حکومت نے جنوبی بیت لحم میں غیر قانونی طور پر آباد کی گئی صہیونی بستی عفرت میں 980 نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ فلسطین میں نوآبادیات اور مزاحمتی دیوار کے کمیشن کے سینئر عہدیدار حسن بریجیہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت غرب اُردن کے الحاق اور آباد کاری کے منصوبوں کو آہستہ آہستہ مختلف حیلوں بہانوں سے آگے بڑھانا شروع کررہی ہے اور نئے مکانات کی تعمیر کے لیے زرعی اراضی کے بڑے حصوں پر قبضہ کرکے شامل کیا جا رہا ہے۔ منظور کیا گیا نیا منصوبہ اسرائیل کی وزارت ہاؤسنگ کے زیر انتظام مکمل کیا جائے گا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں