آئی بی اے کراچی میں کورونا کیسز سامنے آنے پر طلبہ کیلیے کیمپس آکر کلاسز لینے کی شرط ختم

 کراچی: انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن نے ہاسٹل میں کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد تدریسی سلسلے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔

آئی بی اے ( انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ) کراچی نے ہاسٹل میں کوویڈ کے کیسز سامنے آنے کے بعد تدریسی سلسلے کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے انڈر گریجویٹ طلبہ کے لیے کیمپس آکر کلاسز لینے کی لازمی شرط ختم کردی ہیں اور ان کے لیے آن لائن کلاسز ایک بار پھر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے آئی بی اے کراچی کی جانب سے تاحکم ثانی انڈر گریجویٹ کی کلاسز کو آن لائن کردیا ہے اور اسے stretchable training complement کا نام دیا گیا ہے اس سسٹم کے تحت انڈر گریجویٹ کے طلبہ کو اختیار ہوگا کہ وہ آن لائن کلاسز میں گھر بیٹھے شریک ہوں یا کیمپس آکر کلاسز لیں تاہم کیمپس میں بھی یہ کلاسز آن لائن ہی ہوں گی۔

کیمپس کی سہولت کا وہ طلبہ فائدہ لے سکیں گے جن کے پاس گھروں پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ ہو طلبہ کے لیے حاضری کے قوائد میں بھی نرمی کی گئی ہے اس بات کا فیصلہ آئی بی اے کے اکیڈمک بورڈ کے جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔

آئی بی اے کے ترجمان حارث صدیقی نے مذکورہ فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گریجویٹ طلبہ کی تعداد محدود ہے لہذا کیمپس میں ان کی فزیکل کلاسز کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ ہاسٹل میں مقیم طلبہ کو ایڈوانس دی جارہی ہے کہ وہ سالانہ امتحانات تک ہاسٹل میں ہی مقیم رہیں اپنے گھروں کو نہ جائیں کیونکہ آئی بی اے کراچی کے سالانہ امتحانات فزیکل ہی لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ آئی بی اے میں انڈر گریجویٹ پروگرام کے طلبہ کی تعداد 3500 سے کچھ زائد ہے جبکہ مجموعی انرولمنٹ 5 ہزار سے زائد ہے یاد رہے کہ اس سے قبل آئی بی اے کی انتظامیہ نے انسٹی ٹیوٹ کو تدریس کے لیے دو روز کے لیے بند کیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں