اعلی عدلیہ کی تقرری کاطریقہ غیرتسلی بخش ہے،پاکستان بارکونسل کی اے پی سی کااعلامیہ

 اسلام آباد: پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شہریوں کی آزادی ، احتساب اور اعلی عدلیہ کی تقرری کا طریقہ کار غیر تسلی بخش ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کی طرف سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تاہم دعوت کے باوجود وزیر اعظم عمران خان یا تحریک انصاف کے کسی بھی نمائندے نے شرکت نہ کی۔

’ہر سیاسی جماعت سے غلطیاں ہوئی ہیں‘

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پر حملے ہوئے لیکن اپنے موقف پر قائم ہیں، جو ٹوٹی پھوٹی جمہوریت آج ہے وہ ہماری قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے، بتایا جاتا ہے ہم مدینہ کی ریاست میں ہیں، مدینہ کی ریاست کے موٹروے پر عورت سے اجتماعی زیادتی ہوئی، جن کا کام عورتوں کو تحفظ دینا ہے وہ مجرم پر نہیں مظلوم پر سوال اٹھاتے ہیں، ایسے لوگوں کے دفاع میں وزیراعظم اور وزرا سامنے آ جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اہم ترین قانون سازی بھی آزاد ماحول میں نہیں کی جاتی، ہر اہم قانون سازی قواعد اور پارلیمان کو بے اختیار کرکے کرائی گئی۔ کل سپیکر ووٹ کی دوبارہ گنتی پر بھی ساتھ نہیں دے رہے تھے، ہمارا ووٹ نہیں گنا جائے گا تو ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ کب تک پارلیمان کو ربڑ اسٹمپ کے طور پر رکھنا ہے۔ نئے پاکستان میں ہر طبقے کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت سے غلطیاں ہوئی ہیں، سب کی اپنی شکایات ہیں، میثاق جمہوریت میں تھا کہ ججز کی تعیناتی کیسے ہوگی، میثاق جمہوریت پر بہت کام کیا گیا جو رہ گیا وہ عدلیہ سے متعلق ہے، انیسویں ترمیم ہم سے زبردستی کروائی گئی، اٹھارہویں ترمیم کی ایک لائن کو عدلیہ نے دھمکی کے طور پر لیا، زور زبردستی سے قانون سازی ہو تو یہ کمپنی نہیں چلے گی۔

دو سال کا تھا تب سے احتساب کا عمل دیکھ رہا ہوں، بے نظیر بھٹو کے ساتھ عدالتیں اور جیل دیکھتا آ رہا ہوں، ہم آج تک کرپشن کیسز بھگت رہے ہیں ، ہر سیاست دان کو ڈنڈے اور عدالت سے چلانے کی کوشش تو ہو سکتی ہے لیکن یہ کمپنی نہیں چلے گی، مدینہ کی ریاست میں کوئی کتاب نہیں چھپ سکتی، کوئی ٹویٹ نہیں کرسکتا۔ ہم سب کو دستور بچانا ہے، ہمارا مقصد ایک ہے تو اب حکمت عملی بھی ایک ہی کرنا ہوگی، امید ہے 20 ستمبر کی اے پی سی میں تمام جماعتیں ایک پیج پر ہوں گی۔

’ماضی پر رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں‘

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ملک میں انصاف سے متعلق نشیب و فراز آتے رہے، مولوی تمیز الدین کیس میں جسٹس کارلینئیس نے اختلافی نوٹ لکھا تھا پھر ایک جج صاحب نے نظریہ ضرورت کو متعارف کرایا، وہ جج بھی یاد ہوں گے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤ میں دیا۔ عدلیہ کا ہم سب کو احترام ہے لیکن منصف کی شکل کے چند لوگوں نے پرویز مشرف کو وہ دے دیا جو مانگا نہ گیا، ایسے فیصلے عدلیہ کے چہرے پر دھبہ ہیں ماضی پر رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کالے کوٹ والوں نے عدلیہ کی بحالی کیلئے قربانیاں دی ہیں لیکن عدلیہ بحالی کیلئے دی گئی قربانیوں کا نتیجہ کیا نکلا اس پر بحث ہوسکتی ہے، آج حالات پھر مختلف ہوگئے ہیں، عدلیہ میں جن کا ضمیر زندہ ہے وہ دباؤ کے باوجود انصاف پر مبنی فیصلے دیتے ہیں

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہمارے پشتون اور بلوچ بھائیوں نے گراں قدر خدمات اور قربانیاں دیں ہیں، بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں پنجاب نے باقی صوبوں کی مالی مشکلات اپنے سر لیں،چھوٹے صوبوں کے حقوق سلب کرکے ایک صوبے کو پاکستان سمجھنا غلط فہمی ہے، جب تک پنجاب دیگر صوبوں کا برابر کا بھائی نہیں بنے گا قائد کا خواب پورا نہیں ہوگا، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا سو فیصد شیئر بڑھایا گیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسا وزیراعظم جسے احساس نہ ہو کہ ملک کا ہر علاقہ مقدس ہے۔ پارلیمان میں کھڑے ہوکر وہ باتیں کی گئیں جن کا کوئی تصور نہیں کرسکتا، ہم احتساب نہیں انتقام کی چکی سے گزر رہے ہیں، اس کا نقصان ملک کو پہنچ سکتا ہے ٹھنڈے دل سے انتقام اور احتساب کے معاملے کو سوچنا ہوگا، شفاف احتساب ہو تو آدھی کابینہ بچ نہیں سکتی، احتساب انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوا تو ملک قائد کا پاکستان بنے گا۔

’آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کی جائے‘

وائس چیئر مین پاکستان بار کونسل عابد ساقی کا کہنا تھا کہ ججز تعیناتی کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کی جائے کیونکہ جوڈیشل کمیشن ججز کنسورشیم بن چکا ہے، عدالتوں میں ججز تعیناتی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہونا چاہیے، اگر پارلیمان ججز تعینات کرے گی تو عدلیہ کی آزادی پر نہ تو سمجھوتہ ہوگا اور نہ تعیناتی کے معیار پر، احتساب کی تعریف یہاں بیٹھے سب جانتے ہیں پچھلے ستر سال میں صرف سیاسی افراد کا احتساب ہوا غیر جمہوری قوتوں کا نہیں۔ موجودہ احتساب کا قانون پولیٹیکل انجئیرنگ کا آ لہ کار بن گیا ہے، احتساب کا ایک ہی قانون تمام اداروں کے لئے ہونا چاہیے، آئین کے تحت دی گئی تمام شہری آزادیاں آج ختم ہوچکی ہیں ناانصافی پر مبنی نظام تبدیل کرنے کا مینڈیٹ بھی آئین ہی دیتا ہے۔

’نیا میثاق جمہوریت بنایا جائے‘

عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ نیب قانون کو تبدیل کرنے کا موقع 2008 سے 2018 تک تھا جو ضائع کیا گیا، میثاق جمہوریت میں تبدیلیاں کرکے نیا میثاق جمہوریت بنایا جائے۔

’اے پی سی اگر چاہے تو حکومت کو الٹ سکتی ہے‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ اے پی سی اگر چاہے تو حکومت کو الٹ سکتی ہے، ہمیں چھوٹی پارٹی کہا جاتا ہے لیکن ہم بڑے یونٹ سے تعلق رکھتے ہیں، میرا آئین مجھے بدین، تھرپارکر اور دیگر ملک سے جوڑتا ہے اگر اس آئین کو نہیں مانیں گے تو پاکستان نہیں چلے گا، ہم بہت کمزور لوگ ہیں لیکن ہم اس ملک میں دوسرے درجے کے شہری بن کر نہیں رہنا چاہتے، یہ ملک تب چلے گا جب ادارے اپنی حدود میں رہیں گے، عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر ادارے اپنی حد میں رہیں۔

اعلامیہ

اے پی سی کے اختتام پر پاکستان بار کونسل کے ممبر اخیر حسین نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ شہریوں کی آزادی ، احتساب اور ملک میں اعلی عدلیہ تقرری کا طریقہ کار غیر تسلی بخش ہے۔ جوڈیشل کمیشن کا ادارہ ججز کا کنسورشیم ہے۔ انیسویں آئینی ترمیم ختم کی جائے، ملک میں موجودہ انصاف کا نظام غیر موثر ہوچکا، احتساب پولیٹکل انجنیئرنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہے، احتساب کا نیا نظام بنایا جائے ملک کے تمام سرکاری اداروں کے لئے یکساں احتساب کا نظام لایا جائے اور مقدمے کے آغاز سے قبل قید میں رکھنا غیرقانونی ہوگا، کسی ادارے کو احتساب سے استثنی انصاف کے اصولوں کیخلاف ہے۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے یا عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں