نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

لاہور: منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے جہاں جسٹس سردار نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ اس دوران شہباز شریف کی طرف سے بولنے کی اجازت مانگنے پر جج نے کہا کہ ابھی وکلا دلائل دے رہے ہیں اگر کوئی بات رہ جائے تو آپ اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل 58 والیمز میں شہباز شریف کے خلاف کوئی دستاویزی شہادت موجود نہیں ہے، شریف گروپ آف کمپنیز کے کسی ریکارڈ سے شہباز شریف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے جب کہ شریف گروپ آف کمپنیز وہ کمپنیاں جن میں شہباز شریف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔

شہباز شریف نے عدالت سے کہا کہ عاجزی سے کہتا ہوں کہ نیب کو ڈھائی سو سال لگ جائیں لیکن ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ملے گی، قومی خزانے کا ایک ارب بچایا اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جب کہ میرے فیصلے سے میرے بھائیوں اور میرے بچوں کو نقصان ہوا، میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر نہ کسانوں کو نقصان پہنچایا نہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، اگر کرپشن کی ہوتی تو واپس کیوں آتا لندن میں رہ کر زندگی گزرتا، حکومت میری زبان بندی چاہتی ہے۔

عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب حکام نے انہیں گرفتار کرلیا۔ نیب کی ٹیم سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو لیکر آفس پہنچ گئی ہے جہاں میڈیکل چیک اپ کے بعد انہیں حوالات منتقل کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے لئے کورونا ایس او پیز کو مکمل فالو کیا جائے گا، جس سیل میں شہباز شریف کو رکھا جائے گا وہاں ڈس انفکشن اسپرے کر دیا گیا ہے، شہباز شریف سے تحقیقات کے دوران بھی کورونا ایس او پیز کا جیال رکھا جائے گا جب کہ دوران تفتیشی افسران اور شہباز شریف کے درمیان کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ ہو گا، نیب کا کوئی بھی آفسر بغیر ماسک اور سینٹائزر کے بغیر شہباز شریف سے ملاقات نہیں کرے گا۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت میں توسیع نہ ملنے اور نیب کی گرفتاری کے بعد لیگی کارکن مشتعل ہوگئے اور احاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اینٹی رائٹ فورس کے دستوں کو لاہور ہائیکورٹ کے اندر و اطراف میں تعینات کیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں