اشتہار میں ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو دکھانا مشہور بھارتی برانڈ کو مہنگا پڑگیا

ممبئی: زیورات بنانے والے مشہوربھارتی جیولری برانڈ نے شدید تنقید، دھمکیوں اور اعتراضات کے بعد اپنا ’ہندو مسلم ہم آہنگی‘ پر مبنی اشتہار ہٹادیا۔

پچھلے دو روز سے مشہور بھارتی جیولری برانڈ ’تنشق‘ کا اشتہار انڈین ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہا تھا۔ اشتہار میں ایک ہندو لڑکی کو مسلم گھرانے کی بہو دکھایا گیا ہے جس کی گود بھرائی کی رسم چل رہی ہوتی ہے اوربہو اپنی مسلم ساس سے کافی حیرانی سے پوچھتی ہے’ماں یہ رسم تو آپ کے گھر ہوتی نہیں ہے‘ جس پر اس کی ساس کہتی ہے کہ ’لیکن بیٹیوں کو خوش رکھنے کی رسم تو ہر جگہ ہوتی ہے نا‘۔

اس اشتہار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کا خوبصورت پیغام دیاگیا ہے اوراس اشتہار کو جیولری برانڈ نے ’ایکتوام‘ کا نام دیا ہے جس کا مطلب ’اتحاد‘ ہوتا ہے۔  لیکن اس کی وجہ سے بھارت میں نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور انتہا پسند ہندوؤں نے اس اشتہار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ’لوجہاد‘ کا نام دیدیا۔

شدید تنقید، اعتراضات اور دھمکیوں کے باعث بھارتی برانڈ کو اپنے اشتہار سے دستبردار ہونا پڑا۔ جیولری برانڈ کی انتظامیہ کے بیان کے مطابق ان کا اشتہار کو بنانے کا مقصد صرف مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک ساتھ مل کر خوشیوں کا جشن منانا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس اشتہار کے باعث کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے جس پر ہمیں افسوس ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا اشتہار بھی واپس لے لیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز اشتہار کو نشر کیے جانے کے بعد گجرات میں کچھ لوگوں کی جانب سے جیولری برانڈ کے اسٹور پر حملہ کیا گیا تھا اور اسٹور کے مینیجر سے زبردستی معافی نامہ بھی لکھوایاگیا تھا۔ جب کہ گجرات کے مینیجر نے اس واقعے سے ہی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹور پر پولیس کی نفری بڑھادی گئی تھی۔

جیولری برانڈ کی جانب سے اشتہار کو واپس لیے جانے کے باوجود گزشتہ روز ’بائے کوٹ تنشق‘ کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہاتھا جہاں کچھ لوگوں کی جانب سے اس اشتہار کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’لو جہاد‘ کا نام دیاجارہا تھا تو وہیں کچھ لوگوں نے تنشق برانڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے زیادہ تر صارفین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں جن کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ’لوجہاد‘ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مسلمان کسی ہندو لڑکی سے شادی کرتا ہے تو ہندو انتہاپسند الزام لگاتے ہیں کہ اس مسلم شخص نے خاتون کو بہکا کر اس سے شادی کی اوراس کامذہب تبدیل کروایا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں