پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کی 5 اہم وجوہات

شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کیے جانے کی 5 اہم وجوہات سامنے آئی ہیں۔ 

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مختلف شعبہ جات کی جانب سے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹاک ٹاک‘ پر غیراخلاقی اور نامناسب مواد کی شکایت کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ ٹک ٹاک پر پابندی کی مخالفت کرنے والی شوبز شخصیات

شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پاکستان میں پابندی عائد ہونے کے بعد سے کسی نے اس فیصلے کو سراہا تو کسی نے اس پر خوب تنقید کی، ایسے میں شوبز سے وابستہ شخصیات بھی پیچھے نہیں رہیں اور زیادہ تر فنکاروں نے ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی کی حمایت کے بجائے اس سے متنازعہ مواد ہٹانے اور چند دیگر شرائط کے بعد یہ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

غیر اخلاقی مواد

زیادہ تر لوگوں کے نزدیگ ٹک ٹاک پر یہ پابندی صرف غیراخلاقی مواد کی وجہ سے لگائی گئی لیکن ایسا نہیں ہے۔ بنیادی طور پر شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ  پر پابندی عائد کرنے کی 5 اہم وجوہات ہیں جن میں سب سے پہلی وجہ جو پی ٹی اے نے بھی بتائی کہ اس پر غیراخلاقی مواد شیئر ہورہا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ’ٹک ٹاک‘ پر +18 کا مواد بھی بغیر کسی فلٹر کے شیئر کیا جارہا تھا اور اس ایپ کو استعمال کرنے والوں میں نوجوان کی اکثریت شامل ہے جنہیں آسانی سے تمام غیراخلاقی مواد تک رسائی حاصل تھی اس لیے پی ٹی اے کو متعدد وارننگز کے بعد یہ قدم اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ہدایات کو نظرانداز کرنا

ٹک ٹاک پر پابندی کی دوسری وجہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے بھیجی گئی ہدایات کو نظرانداز کرنا تھا یعنی پی ٹی اے نے عوامی شکایات کے بعد ابتدائی طور پر ’ٹک ٹاک‘ انتظامیہ کو خبردار کیا اور انہیں نامناسب مواد کو سینسر کرنے سمیت چند اہم ہدایات دیں جس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں اس ایپ پر پابندی عائد کی گئی۔ اس حوالے سے پی ٹی اے نے اپنی ٹوئٹ میں تفصیلی وجوہات بیان کی تھیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز کے ساتھ پہلی پاکستانی ٹک ٹاکر بن گئیں

وقت کا ضیاع

جس طرح انسان کسی بھی نشے کا عادی ہوجائے تو وہ وقت اور دنیا کی پروا کیے بغیر اس میں مگن رہتا ہے ویسے ہی نوجوان نسل کو ٹک ٹاک کی لت لگ گئی تھی اور وہ تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو چھوڑکر گھنٹوں ٹک ٹاک استعمال کرنے میں گزار دیتے تھے جو نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ یہ ایپ نوجوانوں کو تخلیقی عمل سے بھی روک رہی تھی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ خاتون کو لائیواسٹریمنگ کے دوران پٹرول چھڑک کر آگ لگادی

 اموات میں اضافہ

ٹک ٹاک سے پہلے ’پب جی‘ پر بھی اس لیے پابندی عائد کی گئی تھی (جو بعد میں ہٹادی گئی) کہ اس کی وجہ سے نوجوانوں کی صحت متاثر ہورہی تھی اور اس گیم کی وجہ سے کئی اموات بھی واقع ہوئی تھیں، ویسے ہی ٹک ٹاک کی وجہ سے اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اکثر نوجوان سڑک پر، چلتی گاڑی یا تیزرفتار ٹرین کے سامنے لائیو ویڈیو بنانے کے چکر میں حادثات کا شکار ہوچکے ہیں جب کہ دنیا بھر میں ٹک ٹاک بناتے بناتے 37 نوجوان اپنی زندگیاں کھوچکے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ ٹک ٹاک پر دوستی کی سزا؛ لڑکی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی

دماغی بیماریاں اور سماجی مسائل

ٹک ٹاک پر پابندی کی آخری وجہ دماغی بیماریاں اور سماجی مسائل بھی ہیں، بیشتر ماہرنفسیات کا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان مختلف دماغی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں جن میں کھانے میں بے ترتیبی، خود کو نقصان پہنچانا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹک ٹاک پر خواتین کی ویڈیوز کا غلط استعمال ان کی زندگیوں کو بھی اثرانداز کرتا ہے جب کہ لڑکوں کی جانب سے غنڈہ گردی سمیت ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جو سماجی مسائل کی وجہ بنتی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں