پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاجی دھرنا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر عوام تک صحت کی سہولیات پہنچانے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز احتجاجی دھرنا دے رہی ہیں۔

سرد موسم میں دھرنا میں بیٹھی خواتین ورکرز کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان ان کے مطالبات سننے کے لیے ڈی چوک آئیں۔ بصورت دیگر وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کریں گی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز اسی مقام یعنی ڈی چوک پر احتجاج کر رہی ہیں جہاں موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان گذشتہ دور حکومت میں روزانہ احتجاجی جلسہ کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ 126 روز تک چلتا رہا۔

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل اور وفاقی وزیر علی محمد خان ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات سننے کے لیے ڈی چوک آئے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ اس پر پیش رفت کی جائے گی۔

تاہم لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا تھا کہ وہ تحریری یقین دہانی کے بغیر احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں اور جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ دھرنا جاری رکھیں گی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنظیم کی صدر رخسانہ انور کہتی ہیں کہ وہ گزشتہ 18 سال سے صوبائی حکومتوں سے مطالبات کرتی آ رہی ہیں کہ ان کا سروس اسٹرکچر ترتیب دیا جائے اور انہیں پینشن سمیت دیگر مراعات دی جائیں۔ لیکن صوبائی حکومتوں کی جانب سے شنوائی نہ ہونے پر وہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج پر مجبور ہوئی ہیں۔

سرد موسم میں دھرنا میں بیٹھی ان خواتین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان ان کے مطالبات سننے کے لیے ڈی چوک آئیں۔ بصورت دیگر وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کریں گی۔

سرد موسم میں دھرنا میں بیٹھی ان خواتین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان ان کے مطالبات سننے کے لیے ڈی چوک آئیں۔ بصورت دیگر وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کریں گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر صحت کی سہولیات کی فراہمی میں پولیو کے قطرے، ماں اور بچے کی ویکسین، ڈینگی سروے، ٹی بی، خاندانی منصوبہ بندی اور کرونا آگاہی مہم میں شریک رہتی ہیں۔ تاہم وہ ہر قسم کی حکومتی مراعات سے محروم رہتی ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ سروس اسٹرکچر کا نہ ہونا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں۔ جب کہ اس مہم کے دوران درجنوں لیڈی ہیلتھ ورکرز شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ تاہم حکومتی رہنما ان کی بات تک سننے کو تیار نہیں۔

رخسانہ انور کا کہنا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پانچویں اسکیل میں بھرتی ہوتی ہیں اور تمام عمر اسی اسکیل میں گزار کر جب ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچتی ہیں تو ان کی تنخواہ 18ہزار روپے سے زیادہ نہیں بڑھتی اور پینشن بھی نہیں دی جاتی۔

دوسری طرف حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے دھرنے کے مقام کا دورہ کیا اور مظاہرین کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے اور رواں ہفتے بھی سرکاری ملازمین نے اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک میں احتجاج کیا تھا۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ وہ تحریری یقین دہانی کے بغیر احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ دھرنا جاری رکھیں گی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ وہ تحریری یقین دہانی کے بغیر احتجاج ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے وہ دھرنا جاری رکھیں گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے بعد ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کے لیے وفاقی وزیر پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیرِ اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اس کمیٹی میں وزارت خزانہ، نجکاری، تعلیم، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ جس کا پہلا اجلاس پیر کو ہو گا۔

اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کميٹی کا کام تمام ملازمين کلرکس، ليڈی ہيلتھ ورکرز اور مزدور طبقات کے مسائل فوری حل کرنا ہو گا۔ جس سے ملک کی گورننس ميں بھی بہتری آ سکے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک پر گزشتہ ہفتے سے مسلسل احتجاجی مظاہروں اور دھرنے کے باعث ضلعی انتظامیہ مشکلات کا شکار ہے اور ٹریفک کی روانی میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بھی مظاہرین سے بات چیت کی اور کہا کہ وہ ان کے مطالبات کو وفاقی حکومت کو پہنچانے اور دھرنے کے جلد خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں