امریکا میں 7 دہائیوں بعد خاتون کو سزائے موت دیدی گئی

امریکامیں تقریباً 7 دہا ئیوں بعدپہلی خاتون مجرم کوسزائےموت دےدی گئی۔

جسٹس ڈپارٹمنٹ کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نےخاتون مجرم کو سزائےموت دینےکےحق میں فیصلہ دیا جس کے بعد 52 سالہ سزائے موت کی واحد قیدی خاتون کو مہلک انجیکشن لگا کر سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔

گواہوں کے مطابق سزا  کے عمل کے دوران مونٹگمری کے پاس کھڑی ایک خاتون نے قیدی کے چہرے کا نقاب ہٹایا اور اس سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس آخری الفاظ ہیں؟ مونٹگمری نے “نہیں” کا جواب دیا ، اور کچھ نہیں کہا۔

مہلک انجیکشن کے بعد خاتون کو مردہ قرار دیا گیا۔ مونٹگمری کی وکیل  کیلی ہنری نے کہا کہ پھانسی میں حصہ لینے والے ہر شخص کو “شرم محسوس کرنا چاہئے”۔

اس سے قبل ریاست انڈیانا میں وفاقی جج نے سزائے موت کی منتظر واحد خاتون قیدی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا عدالت کا کہنا تھا کہ لیزا مونٹگمری کی ذہنی صحت کو دیکھتے ہوئے عدالت حکومت کی جانب سے اُنہیں سزائے موت دینے کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر خاتون کو سزائے موت دے دی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں