خیر پور زیادتی کیس: ڈی این اے رپورٹ آنے میں چالیس دن لگ سکتے ہیں ، پولیس

خیرپور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی کے اصل قاتل کا سراغ 48 گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باوجود بھی نہ لگایا جاسکا جبکہ پولیس کی زیر حراست 10 افراد سے تفتیش ابھی بھی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر خیرپور میں چار روز قبل حادل شاہ پور سے اغوا ہونے والی 7 سالہ بچی کی لاش گزشتہ روز کھیتوں سے ملی تھی جسے زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں 3 نامعلوم ملزمان کے خلاف زیادتی ، قتل اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایس ایس پی امیر سعود کے مطابق شک کی وجہ سے 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے جبکہ حراست میں لیے گئے افراد کے ڈی این اے سیمپلز جامشورو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

پولیس کاکہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے میں پندرہ سے چالیس دن لگ سکتے ہیں۔

دوسر جانب ایس ایس پی امیر سعود کے مطاق ٹیکنیکل طور پر بھی کیس کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کیس کی تفتیش کیلئے 3 مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

امیر سعود نے بتایا کہ تفتیش میں ٹیم انچارج کو گمراہ کرنے پر 2 پولیس اہلکاروں کو کوارٹر گارڈ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خیرپورمیں7 سالہ بچی کا مبینہ زیادتی کے بعد قتل

زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی کی قبر پر اس کی سہیلیوں اور رشتے داروں نے حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

یاد رہے خیرپور کے علاقے حادل شاہ پور میں 7 سالہ بچی لاپتہ ہوگئی تھی ، بچی کی لاش کیلوں کے کھیت سے 2 روز بعد برآمدکی گئی جبکہ ورثا کی جانب سے پولیس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے بچی کی تلاش نہیں کی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں