‘ پاکستانی کنٹینر سے ایک ہزار ڈالر فی کنٹینر فیس لی جاتی ہے’

وزارت تجارت کے حکام نے کہا ہے کہ پاک افغان تجارتی معاہدے پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے،  پاکستانی کنٹینر سے ایک ہزار ڈالر فی کنٹینر فیس لی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس ہوا جس میں پاک افغان تجارتی معاہدے سےمتعلق وزارت تجارت حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ پاک افغان تجارتی معاہدے کی مدت 11 فروری کو ختم ہورہی ہے افغانستان کے ساتھ اب تک دو مذاکراتی دور ہوچکے ہیں۔

کمیٹی چیئرمین نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 11 فروری کویہ معاہدہ ختم ہورہاہے اورابھی تک نئے معاہدے پراتفاق نہیں ہوا جس پر حکام نے واضح کیا کہ  رواں ماہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی،افغان وزیر تجارت نے خط لکھا ہے ۔

وزارت تجارت کے حکام نے کہا  کہ پاک افغان تجارتی معاہدے پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے،  پاکستانی کنٹینر سے ایک ہزار ڈالر فی کنٹینر فیس لی جاتی ہے افغان حکام نے معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

رکن کمیٹی ساجدہ بیگم نے کہا کہ عالمی لاجسٹک کمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو مالی نقصان ہورہا ہے، ان لاجسٹک کمپنیوں کی وجہ سے شپنگ کی لاگت میں اضافہ ہوا۔

ممبر کسٹم ایف بی آر نے جواب دیا کہ افغانستان کوریڈور وسطی ایشیائی ریاستوں میں تجارت کیلئے اہم ہے۔وزارت تجارت حکام نے کہا کہ کورونا کےباعث شپنگ کمپنیوں کے ذمے 7 ارب روپے کی رقم واجب لادا ہے، شپنگ کمپنیوں نے یہ رقم معاف کرنے کی درخواست دی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں