کرونا ویکسین کی تقسیم: امیدیں اور حقائق: شفقنا خصوصی

ریکارڈ وقت میں کرونا کی 18 ویکسینیں ٹیسٹنگ کے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں اور پانچ پہلے ہی ابتدائی یا محدود استعمال کے لیے مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ حال ہی میں فائزر بائیو این ٹیک اور موڈرنا ویکسین کی تقسیم کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 64 ویکسینیں کلینکل ٹرائل کے مرحلے میں ہیں اور 85 جانوروں  پر ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہیں۔وبا کے ابتدائی سال میں دنیا تیار نہیں تھی تاہم جیسے جیسے مارکیٹ ویکسینز سے بھرتی جا رہی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا دنیا تقسیم کے مرحلے کے لیے تیار ہے۔

فی الوقت ویکسین محدود پیمانے پر دستیاب ہے۔اس لیے دنیا بھر کے ماہرین صحت ویکسین کے حوالے سے اپنی اپنی ترجیحات بیان کر رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ  آرگنائزیشن کی ترجیحات میں محکمہ صحت کے کارکنان ، بزرگ افراد اور ایسے افراد شامل ہیں جو مختلف خطرناک بیماریوں  کا شکار ہیں۔ امریکی حکام اگرچہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ محکمہ صحت کے ملازمین، نرسنگ ہومز اور کئیر ہاوسز ویکسین کے حصول کے لیے اولین ہیں تاہم تقسیم کے اس عمل کی غیر جانبداری پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے بعض علمبرداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس کی تقسیم میں نسلی امتیاز کا خدشہ ہے اور اشارہ دیا ہے کہ ترجیحات کے اس عمل میں نسلی اقلیتیں  نظر انداز ہو جائیں گی ۔ اسی طرح اگر پہلی ترجیح بزرگوں کی بجائے کام کرنے والوں کو دی جائے  تو پھر خطرے کا سب سے زیادہ شکار افریقی امریکی بزرگ نظر انداز ہو جائیں گے۔ اسی طرح ایشیائی ، ہسپان اور مقامی امریکیوں  میں شرح اموات سفید فاموں کی نسبت زیادہ ہے اور ان کو ویکسین کی ضرورت پہلے ہے۔

اسی طرح اقلیتیں جن کی صحت کے لیے رسائی برابری کی سطح پر نہیں اور وہ ایسی ملازمتوں سے وابستہ ہیں جن میں اب کا واسطہ عوام سے پڑتا ہے ان کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور کرونا کی ترجیحات  میں انہیں شامل ہونا چاہیے۔ برطانیہ کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہاں بھی اقلیتی گروہ کرونا وبا کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ سفید فاموں کی نسبت سیاہ فام افریقیوں میں کرونا سے اموات کی شرح بہت بلند ہے۔ ایک طرف تو ان کی جانوں کو شدیدخطرات لاحق ہیں تاہم دوری جانب وہ اس ویکسین کے استعمال سے بھی خائف ہیں کہ کہیں ان کے اوپر تجربات ہی نہ کیے جا رہے ہوں۔ ایک حالیہ سروےکےمطابق لندن کی 39فیصد نسل پرست اقلیتیں ویکسین کے استعمال کے لیے مثبت رائے رکھتی ہیں جب کہ ان کے مقابلے سفید فاموں کی یہی شرح 70 فیصد ہے۔

اسی اثنا میں اس طرح کے شکو ک وشبہات کو ویکیسن کے خلاف جاری تحریکوں نے مزید تقویت دی ہے۔لندن میں قائم سنٹر برائے انسداد ڈیجیٹل منافرت کے مطابق ویکسین مخالف عناصر نے سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو طاقتور بنایا ہے اور مختلف سول میڈیا سائٹس پر ان کے فالورز کی تعداد 8 ملین تک جا پہنچی ہے۔ مزید برآں ویکسین کی ضرورت پر بے بہا بحث کے درمیان برازیل کے ایک سیاستدان نے کی ٹویٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس کے سابق رکن اور صدر کے حمایتی روبرٹو جیفرسن نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عالمی ماہرین ہمارا جنیاتی مادہ تبدیل کرنے کے لیے ویکسین تیار کر رہے ہیں ۔ ان کی ٹویٹ سے ویکسین مخالف عناصر نے اس کو مزید ہوا دی ہے۔

اس کے علاوہ تقسیم کے عمل کو نقل و حمل کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ برطانیہ جس نے 2021 میں 25 ملین لوگوں کو ویکسین دینی ہے ، کو بھی نقل و حمل کے مسائل درپیش ہیں۔ کیونکہ یہ ویکسین جادوئی رقیق دوا نہیں ہے جس کو آسانی سے جذب کر لیا جائے اس کی ترسیل کے لیے سنجیدہ چیلنجز کا سامناہے جن پر تاحال غور ہی نہیں کیا جارہا۔ اس وقت جب انسانیت ایک دہائی سے ویکسینز کا استعمال کررہی ہے موجودہ ویکسین وبا کےبحران کے لیے سپلائی چین کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ اول اس ویکسین کے لیے ایک بڑےپیمانے پر لوازمات ، حفاظتی سامان ، سرنجوں، سوئیوں ، ربر کے دستانوں اور الکوحل سویبز کی ضرورت ہے۔ برازیل میں پہلے ہی سرنجوں اور شیشیوں کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ دوسرا، ویکسین کو اس کی مقررہ مدت کی ترتیب اور ضروری درجہ حرارت کے مطابق سٹور کیا جانا چاہیے ۔ اگر ایک مرتبہ پگھل گئی تو فائرز کی ویکسین پانچ دن سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسکے  مقابل  میں اگر فریج میں محفوظ کی جائے تو موڈرنا کی ویکسین ایک مہینہ نکال سکتی ہے اور کمرےکے درجہ حرارت پر اس کی زندگ محض 12 گھنٹے ہے۔ فائزر ویکسین کو ریگولر ریفریجریٹرز میں محفوظ کیا جاسکتا ہے جب کہ موڈرنا کو منفی 70 ڈگری پر محفوظ  کرنا ضروری ہے اس لیے اس کو محفوظ بنانا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

تیسرا، دوسروں کو نظر انداز کر کے کسی ایک کی بیماری پر توجہ مرکوز کرنے سے ترقی پذیر ممالک میں سنجیدہ مسائل پیدا ہوسکتےہیں۔ موزمبیق اور تھائی لینڈ نے ماضی میں اس طرح کے مسائل کا سامنا کیا ہے۔ اور آخری مگر اہم ترین بات کہ اصل خدشہ یہ ہے کہ یہ ویکسیین درحقیقت امیر اور ترقی یافتہ ممالک کو ہی فراہم کی جائے گی۔ 2009 میں ایچ ون نائن ون وبا کے دوران ترقی یافتہ ممالک نے ویکسین کا تمام سٹاک حاصل کر لیا ۔ اگر تاریخ خود کو دہراتی ہے اور دنیا کی جانب سے اس ویکسین کی ضرورت کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غریب ممالک کو ا س کے لیے سالوں انتظار کرنا پڑے گا۔

تقسیم کا عمل تاحال گنجلک ہے اور ویکسین کی سپلائی کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ کون اور کیسے اس کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔ مختصر بات یہ ہے کہ تمام لوگ برابر ہیں  لیکن کچھ لوگ ذرا زیادہ برابر ہیں۔ اس لیے ویکسین کی فراہمی کو اخلاقی، طبی، نقل و حمل اور دیگر مسائل کا سامنا ہوگا۔

بدھ، 13جنوری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں