حقائق چھپانے نہیں سچ بتانے آیا ہوں،وقار یونس

لاہور(جسارت نیوز) قومی ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ دورہ نیوزی لینڈ مشکل تھا اور وہاں کووڈ 19 کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ میں کچھ چھپانے کے لیے نہیں بلکہ حقائق اور سچ بتانے کے لیے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ دورہ نیوزی لینڈ ٹف تھا لیکن یہ کوئی معذرت نہیں ،کووڈ 19 کی وجہ سے مشکل ہوئی، ہم نے پہلا ٹیسٹ اچھا کھیلا لیکن دوسرے ٹیسٹ میں ہم بہتر نہ کھیل سکے جو پرفارمنس ہم دینا چاہتے تھے وہ نہیں دے سکے، کھلاڑیوں کو انجریزہوئیں اور سب سے بڑھ کر کووڈ کی وجہ سے 14 روز کا قرنطینہ آسان نہیں اور یہ سب ایتھلیٹس کومشکل آرہی ہے۔وقار یونس کا کہنا تھا کہ بولرز پر فخر ہے کہ انہوں نے مشکل حالات میں اچھا پرفارم کرنے کی کوشش کی، نسیم شاہ غیر معمولی صلاحیتیوں کا مالک نوجوان بولر ہے، وہاں جا کر کوئی بھی کھیلتا تو مشکل ہوتی، اب جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے منتظر ہیں۔بولنگ کوچ نے مزید کہا کہ کرکٹ کمیٹی کے ربر اسٹمپ کے بارے میں کمنٹ نہیں کرسکتا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کرکٹ کمیٹی کا اجلاس بہت اچھا ہوا، کرکٹرز نے کرکٹرز کی بات سنی اور پہلی مرتبہ اجلاس میں گیا، ایسے اجلاس ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ٹیم کو چھوڑ کر نہیں آیا،7 ماہ سے فیملی سے نہیں ملا تھا، بورڈ کو بہت پہلے بتادیا تھا کہ مجھے ٹیم بہت عزیز ہے، پہلے ٹیم کو چھوڑا اور نہ اب چھوڑوں گا۔محمد عامرکے بارے پوچھے جانے والے سوالات کے بارے میں وقار یونس نے کہا کہ عامر کے بیانات سے بہت تکلیف ہوئی ، وہ شاندار کرکٹر ہے میں تو اسے واپس لانے کے لیے لڑا تھا، نجم سیٹھی سے لڑا اور کھلاڑیوں سے بات کی کہ اسے موقع دینا چاہیے۔ بولنگ کوچ کا کہنا تھاکہ کوچنگ کا انحصار کارکردگیپر ہے، کارکردگی اچھی ہوگی تو آگے موقع ملے گا۔وقار یونس نے تنقید کرنے والوں کے بارے کہا کہ کوچ نہیں کمنٹیٹر ہونے اور اسکول کی کوچنگ نہ دینے والی جس نے بھی بات کی ہے اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں، مجھے کوئی دکھ نہیں کہ کس نے کیا کہا، میں پریشان نہیں ہوتا، ناقدین کو بولنا چاہیے، وہ بولیں گے تو ہماری بہتری ہو گی، مجھ میں کچھ ہے تو یہاں کھڑا ہوں، تنقید کرنا اور کمنٹری کرنا بہت آسان ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو موقع دیاجائے وہ موقع پورا ملنا چاہیے جیسے دوسرے شعبوں میں ملتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں