سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن صوبے میں ایک ہزار اسکول کھولے گی

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ کے تحت ایک ہزار اسکولوں کے قیام کی اجازت دیدی ہے تاکہ اسکولوں سے باہر دولاکھ بچوں کو اسکولوں میں واپس لایا جاسکے۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں وزیر تعلیم سعید غنی، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ای ایف نے نجی شراکت داروں کے زیر انتظام 1000 اسکولوں کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان اسکولوں کو ایک خاص ٹاسک دیا جائے گا کہ وہ اسکول سے باہر 2لاکھ بچوں کو واپس اسکول لائیں گے۔ بورڈ ممبران نے تبادلہ خیال اور غور و خوض کے بعد اس تجویز کو منظور کرلیا۔

ایم ڈی ایس ای ایف قاضی کبیر نے بورڈ ممبران کو بتایا کہ اسکول میں بچوں کے سالانہ اندراج میں اضافے کے حوالے سے 5 فیصد سبسڈی کی فراہمی کی منظوری دی گئی تھی مگر گذشتہ 5سال سے کوئی سبسڈی نہیں دی گئی۔ موجودہ سبسڈی کا فریم ورک تمام پرائمری گریڈ کے لیے 700 روپے کی پیش کش کی گئی جس سے شراکت داروں کی پیش قدمی کو یقینی بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پوسٹ پرائمری گریڈ کے لیے سبسڈی کی بڑھتی شرح شراکت داروں کو مضامین کے ماہر اساتذہ بھرتی کرنے کے قابل بنائے گی۔

ایس ای ایف کمیٹی کی سفارش پر بورڈ نے کچی سے دوم 800 روپے ، گریڈ III سے V 1000 روپے ، گریڈ VI۔ VIII کے لیے 1500 روپے ، IX اور X کے لیے 2000 روپے اور گریڈ XI-XII کے لیے 2200 روپے کی منظوری دی۔

بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ میں میرٹ پر کیڈٹ کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے والے سرکاری اسکولوں کے بہترین طلبا کواسکالرشپ پیش کریں۔ ایس ای ایف کی تعلیمی کونسل ہر کالج کے بہترین طلبا کا انتخاب کرے گی۔ پاکستان نیوی اور پاک فضائیہ جیسے دیگر سرکاری ادارے بھی دشوار / حساس علاقوں میں اسکول چلا رہے ہیں جن کی مدد اور استحکام کے لیے مناسب تعاون کی ضرورت ہے۔

بورڈ نے مکمل غور و خوض کے بعد ایک مسابقتی بولی لگانے کے عمل کا سہارا لینے کے بجائے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے ایسے بچوں کو براہ راست ایس ای ایف کے تحت اسکول سبسڈی ماڈل کے تحت ایسے اسکولوں کو لینے کے لیے ایک علیحدہ طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں