شہری کے لاپتا ہونے پر متعلقہ ایس ایس پی کیخلاف مقدمہ ہوگا، سندھ ہائیکورٹ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی ۔عدالت نے 11 فروری کو پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔لاپتا افراد کی عدم بازیابی پر عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ عوام کے جان اور مال کے تحفظ کی ذمے داری ریاست پر ہے،بندے اٹھا کر غائب کرتے رہنا کیا قانون کے مطابق ہے ؟ کوئی شہری لاپتا ہوا تو اس علاقے کے ایس ایس پی کے خلاف مقدمہ درج ہوگا ، برسوں سے شہری لاپتا ہیں اور تفتیش میں کسی قسم کی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اوردفاع سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے کہا کہ بتایا جائے لاپتا شہریوں کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں،پولیس کی تفتیش محض خانہ پوری کے سوا کچھ نہیں ہوتی،2بھائی 2009ء سے لاپتا ہیں اب تک سراغ نہیں لگایا گیا ۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ محمد الیاس اور امین اپنی مرضی سے خیبر پختونخواچلے گئے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیسی بات کررہے ہیں،11برس سے گمشدگی کا کیس زیر سماعت ہے،گمشدہ شہری کو تلاش کرنا پولیس کا کام ہے،کیا سندھ پولیس لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے کے پی کے حکومت اور پولیس سے رابطہ نہیں کرسکتی؟ عدالت نے آئی جی سندھ کو لاپتا شہریوں کی بازیابی سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ عدالت نے لاپتا شہری عمر فاروق ، احسان اور دیگر کی بازیابی کے لیے خصوصی اقدامات کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ کو لاپتا افراد کے معاملے پر جے آئی ٹی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 11 فروری کو پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔علاوہ ازیںمقامی عدالت نے طالب علم محمد علی بٹ کے اغوا و قتل کے کیس میں 9 برس سے مفرور پولیس اہلکار ناموس خان کی عبوری ضمانت منسوخ کردی۔جس کے بعد ملزم نے احاطہ عدالت سے فرار ہونے کی کوشش کی،جسے ناکام بناتے ہوئے ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ۔ عدالت نے ملزم ناموس خاں کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار اگر مجرم نہیں تھا تو 9 سال تک کہاں رہا ،کیس سے مفرور ہونا مجرم ہونے کے مترادف ہے،ملزم کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں، ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔ ملزم کے و کیل کا کہنا تھا کہ کیس میں تمام ملزم بیگناہ قرار دیے جاچکے ہیں ، میرا موکل بے گناہ ہے، ضمانت دی جائے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم نے دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ طالب علم کو گھر کے باہر سے اغوا کیااور تھورے فاصلے پر جاکر محمد علی بٹ کو قتل کیا جسے جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کیا گیا، ملزم تھانہ فیروز آباد میں تعینات تھا ،کارروائی منظور کالونی میں کی،ملزم کے خلاف تھانہ بلوچ کالونی میں جنوری 2011ء کومقدمہ درج کیا گیا، ملزمان کے خلاف مقتول کے والد یوسف بٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں