Home / Authors

Authors

  • محمد ہارون عباس قمر

    محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے
  • مرزا بابر نویدؔ بیگ

    مرزا بابر نویدؔ بیگ نام ہے ایک صحافتی تاریخ میں اہم ترین تبدیلوں کے ذریعے پاکستان میںطرزِصحافت کو ایک نیا رنگ دینے کا۔ ایسے افراد ہر روز پیدا نہیں ہوتے ۔ کسی خوش نصیب قوم کی حصہ میں ایسے افراد کاتب تقدیر لکھ دیتا ہے۔ جو زمانے میں جھوٹ ، فریب اور مکاریوں کے خاتمہ کا باعث بنتے ہیں اور سہانے مستقبل کی راہ دکھاتے ہیں ان پر چلانے کا سبب بنتے ہیں ۔ ایک نمونہ حیات بنتے ہیں ۔ حق اورسچ کی سر بلندی ہی ان کی پہچان راہ اور منزل ہوتی ہے۔ مرزا بابر نوید بیگ نے 30جون 1960؁ کو گجرات کے ایک گائوں چک بزرگ میں جنم لیا۔ پاکستانی صحافت میں گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافت کی بنیاد عوامی آواز پر پہلے درجہ میں جبکہ خبروں کی بنیاد پر ثانوی درجہ پر ہونی چاہیے۔ کیونکہ پاکستانی قوم ایک صدیوں سے پسی ہوئی غلامی کا دور گذار کر آئی ہے اوراس پر ابھی غلامی کے اثرات موجود ہیں ۔ ان کی آواز ہی معاشرہ کی مثبت تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ہر اخبار میںادارتی صفحہ کی جگہ پر خبروں پر مبنی مواد ہونا چاہیے جبکہ بیرونی صفحات عوامی آراہ پر مبنی ہونے چاہیں۔ اس طرح عوام میں ایک دوسرے کو دیکھ کر بولنے اور لکھنی کی صلاحیتوں کا جلا ملے گی حقیقی مسائل سامنے آ سکیں گے اوردرجہ بدرجہ عوام کی آواز سے غلامانہ ذہنیت بدلتے بدلتے ایک آزاد آواز میں تبدیل ہو جائیگی۔ ایک آزاد معاشرہ کے قیام کےلیے عوام کے لاشعور کو غلامی سے نکالنا ہو گا، اور اس کے لئےہمیں تبصراتی اخبارات کو سامنے لانا ہو گا ان کی ترویج کرنا ہو گی اور عوامی آواز کو معاشرہ کے سامنے لانا ہو گا۔ اس سوچ پر چلتے ہوئے پاکستان کے پہلے تبصراتی اخبار کا قیام عمل میں لائے اور اس پر کام کرتے ہوئے اس کو تمام ضروری قانونی مراحل سے گذارتے ہوئےاس منزل پر لے آئے کہ حکومت کو بھی ان کے اخبار کو سرکاری اشتہارات کی لسٹ میں شامل کرنا پڑا۔ لیکن پاکستانی حکومتی مشینری میں پریس کے شعبہ سے متعلق وزارت نے ہر دور میں ان کی آواز کو دبانے کےلئے ان کو سوچ کو ختم کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ اور ان کے اشتہارات ختم کر دئے گئے۔ ان کی افرادی سرکاری شناخت(ایکریڈیٹیشن کارڈ) کو ختم کرنے کی ہر کوشش کی گئی۔جو آج تک نہیں جاری کیا جا سکا۔