ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی آرمی چیف جھوٹ بول رہے ہیں،کشمیر میں حالات بالکل ٹھیک نہیں: نیشنل کانفرنس

نوجوان نسل کا کاروائیوں میں تعطل اورخاموشی حکمت عملی کا حصہ ہے

صریر خالد

عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ

سرینگر :بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے دو روزہ دورے پربھارتی فوجی سربراہ جنرل منوج مکند نارونے کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کا عمل اب تک کامیاب رہا ہے تاہم اسے برقرار رکھنے کی پوری ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر میں اب حالات زندگی معمول پر آ گئے ہیں۔ سری نگر میں جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر میں حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور بہت بہتری آئی ہے۔
تاہم کشمیر میں بھارتی نواز سیاست دانوں کے متحدہ محاذ ‘گپکار’ میں شامل ایک سرکردہ رہنما اور عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ نے بھارتی فوجی سربراہ کے بیان کو صریحا جھوٹ قرار دیا۔
ڈینش خبر رساں ادارے القمرآن لائن سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو، دو روز قبل ہی دن دہاڑے ایک کونسلر کو قتل کیوں کر دیا گیا۔کشمیر کے تو حالات قطعی نارمل نہیں ہیں۔
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ بھارتی فوجی سربراہ کا یہ بیان تو کس حد تک صحیح ہے کہ اب پتھرا وکم ہو گیا ہے، مظاہرے بھی بہت کم ہوتے ہیں؟ اس پر مظفر شاہ کا کہنا تھا،یہ اس لیے ہے کیونکہ کشمیری عوام بھارتی حکومت سے اس قدر نالاں اور مایوس ہو چکی ہے کہ اس نے ان سے منہ پھیر لیا ہے اور اب انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ خاموشی سے سب دیکھ رہے ہیں۔ اور مقامی سیاست دانوں نے بھی ان سے خاموش رہنے کی اپیل کر رکھی ہے۔
مظفر شاہ کے مطابق یہ خاموشی بھارتی فوجی سربراہ کی کوششوں کے سبب نہیں ہے بلکہ یہ کشمیر کی نوجوان لیڈر شپ کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ کوئی ایسی چیز نہ ہونے پائے، جس سے بھارتی فوج کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دے اور ان پر تشدد کیا جانے لگے۔
القمرآن لائن کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019 اگست میں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دوخطوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ایسا کرنے کے لیے کشمیر میں کرفیو جیسی سخت بندشیں عائد کر دی گئی تھیں اور سینکڑوں کشمیری رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس میں سے بیشتر اب بھی بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جبکہ بہت سی سخت بندشیں اب بھی عائد ہیں۔
بھارت اور پاکستان نے رواں برس 25 فروری کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے گزشتہ روز 100 دن مکمل ہو گئے۔ اس دوران فریقین اس پر پوری طرح سے عمل بھی کیا۔ اس موقع پر بھارتی فوجی سربراہ نے کہا کہ جب تک پاکستان اس پر عمل کرتا ہے بھارت بھی عمل کرتا رہے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں