ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جموں کی ہیرا نگر جیل میں قید روہنگیا پناہ گزین خاتون کی موت

پناہ گزینوں میں شدید تشویش

جموں(ساوتھ ایشین وائر)

جموں کی ہیرا نگر جیل میں قید ایک روہنگیا پناہ گزین خاتون کی موت کے بعد دیگر پناہ گزینوں میں شدید تشویش کا ماحول ہے۔ حال ہی میں 220 میں سے 53 قیدی کورونا سے متاثر پائے گئے تھے۔
جموں و کشمیرکے سرمائی دارالحکومت جموں میں 220 روہنگیا پناہ گزینوں کو چند ماہ قبل غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر میں رہنے کے الزام میں کٹھوعہ ضلع میں واقع ہیرا نگر جیل میں منتقل کیا گیا تھا جہاں ایک 64 سالہ نور عائشہ نام کی خاتون کی موت ہو گئی۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جیل میں روہنگیا خاتون کی ہلاکت کے بعد پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔فوت شدہ خاتون کے قریبی رشتہ داروں نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ جس طرح سے ہیرا نگر جیل میں قید خاتون کی موت وقع ہوئی ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب روہنگیا پناہ گزینوں کی موت قید میں ہی ہو گی۔انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ زیر حراست پناہ گزینوں کو رہا کیا جائے اور متوفی خاتون کی نعش اہلخانہ کے حوالے کی جائے تاکہ اس کی آخری رسومات مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی جائے۔
متوفی خاتون کے قریبی رشتہ دار محمد طفیل نے ساوتھ ایشین وائرکو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ کس طرح سے نور عائشہ کی موت ہوئی۔ ہیرا نگر جیل میں بیشتر روہنگیا پناہ گزین بزرگ ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ ان بے گناہ بزرگوں کی موت جیل میں ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ برما میں ان کے ساتھ ظلم و ستم ہوا اور اب یہاں بھی انہیں مشکلات و مسائل میں دھکیلا جا رہا ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بدقسمتی ہمارا مقدر بن گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں اور سانبہ اضلاع کے مختلف مقامات پر 6500 سے زائد روہنگیا مسلمان مقیم ہیں۔ساوتھ ایشین وائرکے مطابق چند روز قبل 53 روہنگیا پناہ گزین قیدیوں کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گورنمنٹ میڈیکل کالج کٹھوعہ کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کو 31 مئی کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا کووڈ ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ تاہم ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی۔
ہزاروں روہنگیا پناہ گزین دس سال قبل میانمار میں مسلم نسل کشی کی لہر سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچے جہاں سے وہ بھارت میں داخل ہوگئے۔ ان میں سے بیشتر نے جموں کا رخ کیا اور یہاں شہر کے نواحی علاقوں نروال، بھٹنڈی، کرانہ تالاب وغیرہ میں عارضی طور پر مقیم ہوگئے۔ساوتھ ایشین وائرکے مطابق جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں مستقل سکونت کا ارادہ نہیں رکھتے۔
روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف بجرنگ دل کے کارکنان کا احتجاجگذشتہ انتخابات میں بی جے پی، بجرنگ دل اور دیگر سخت گیر ہندو نظریات رکھنے والی تنظیموں نے روہنگیا برادری کو نشانہ بنایا اور انھیں ‘انتہا پسند’ اور ملک کی ‘سلامتی کے لیے خطرہ’ قراد دیا گیا۔ جبکہ جموں میں کئی بار روہنگیا کے خلاف احتجاج بھی ہوئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں