ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تحریک انصاف کی حکومت کا تیسرا بجٹ، منظوری کے لیے عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مالی سال 22-2021​ کا سالانہ بجٹ زیر بحث آیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے جو قومی اسمبلی میں جمعے کو منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ خزانہ شوکت ترین کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ پہلے قومی اسمبلی میں پیش کریں گے بعد ازاں یہ سینیٹ میں جائے گا۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق مالی سال برائے 22-2021 کا بجٹ تقریباً آٹھ ہزار ارب روپے کا ہے جس میں کابینہ کی جانب سے نظرِ ثانی کی صورت اضافہ ہو سکتا ہے۔

آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن 5820 ارب اور نان ٹیکس آمدن 1420 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں بجٹ خسارے کا تخمینہ تین ہزار 500 ارب رہنے کی توقع ہے۔

اس سے قبل قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ برس کے لیے 2135 ارب روپے ترقیاتی بجٹ رکھنے کی منظوری دی تھی جب کہ معاشی شرح نمو کا ہدف 4.8 فی صد مقرر کیا گیا۔

تقریباً 2135 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 900 ارب روپے اور صوبوں کو 1235 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ دیے جائیں گے۔

قرض اور اس پر سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے تین ہزار 105 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال اس مد میں 2 ہزار 920 ارب روپے رکھے گئے تھے۔



آئی ایم ایف، پاکستان اور کرونا وائرس

دفاع کے لیے 35 ارب روپے اضافے کے ساتھ ایک ہزار 330 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، رواں سال دفاعی بجٹ کا حجم ایک ہزار 295 ارب روپے تھا۔

ریٹائرڈ سرکاری ملازمیں کی پینشن میں 10 ارب روپے اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے اور مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی کی مد میں رواں سال کے 400 ارب روپے کے مقابلے میں 501 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور مختلف وفاقی اداروں کے لیے 994 ارب روپے کی گرانٹس جاری کرنے کی تجویز ہے۔

برآمدات کا ہدف 26 ارب 80 کروڑ ڈالر اور درآمدات کا ہدف 55 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوگا۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 160 ارب روپے مالیت کا پیکیج دیے جانے کا امکان ہے۔

پے اینڈ پنشن کمیشن کی جانب سے وفاقی کابینہ کو بھجوائی گئی سفارشات کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 یا 15 فیصد اضافے کی الگ الگ سمریاں بجھوائی گئی ہیں جب کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمیں کی پینشن میں بھی 15 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

گزشتہ روز حکومت کی طرف سے جاری اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی مجموعی ترقی یعنی جی ڈی پی کا اندازہ دو اشاریہ ایک فیصد رکھا تھا جو کہ بہتر معاشی حکمت عملی کے نتیجے میں تین اعشاریہ نو فیصد رہے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا معاشی استحکام کا پروگرام کامیاب رہا ہے اور اب ترقی کے حصول کے ساتھ ساتھ غریب تک معیشت کے مثبت اثرات پہنچائیں گے۔

آئندہ سال کے لیے حکومت کی معاشی ترجیحات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ملکی برآمدات، پیداوار اور ترسیلات زر کو بڑھانا ہے اور اس مقصد کے لیے زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر خاص توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ زراعت میں فوڈ سرپلس کے لیے زرعی برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں