ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دنیا بھر میں سولہ کروڑ بچے محنت مزدوری پر مجبور ہیں، عالمی ادارۂ محنت کی رپورٹ

عالمی ادارہ محنت اور اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ کی نئی مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں ہر دس بچوں میں سے ایک بچہ مجبوراً مزدوری کر رہا ہے۔ 2016 کے مقابلے میں اس تعداد میں 84 لاکھ بچوں کا اضافہ ہوا ہے۔

12 جون کو بچّوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اسی حوالے سے یہ پیشگی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

گزشتہ 20 برسوں سے عالمی ادارہ محنت ہر سال یہ اعداد و شمار جمع کر رہا ہے اور پہلی بار اس تعداد میں اتنا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 8 کروڑ بچے ایسا کام کرتے ہیں، جسے صحت کے لئے ضرر رساں قرار دیا جا سکتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے ملکوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر مزور بچے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ملکوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر مزور بچے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ذہنی اور جسمانی صحت کے لئے ضرر رساں کام کو بدترین چائلڈ لیبر شمار کیا جاتا ہے ۔ یہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے خطرناک ہوتا ہے، اور ایسے کاموں سے بچے اپنی جان سے جا سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ محنت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 70 فی صد بچے زراعت کے پیشے سے، 20 فی صد خدمات کے شعبے سے، جس میں گھریلو کام کاج شامل ہے اور 10 فی صد صنعتی پیشے سے منسلک ہیں۔

عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل گائی ریڈر نے کہا ہے کہ صرف افریقہ میں مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد میں پچھلے چار سال کے مقابلے تقریباً دو کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں چائلڈ لیبر کو کیسے روکا جائے؟





please wait



No media source now available

یوں فی الوقت زیریں صحارا افریقہ میں ہر پانچ بچوں میں سے ایک بچہ مزدوری کرتا ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے بھی چائلڈ لیبر کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کویڈ 19 نے صورت حال کو مزید بدتر کر دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر حالات یہی رہے تو اگلے سال کے اختتام تک اس میں مزید 90 لاکھ مزدور بچوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ محنت اور یونیسیف کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر مناسب سماجی تحفظ کی فراہمی لازمی ہے۔ بالغ افراد کو اگر معقول روزگار میسر ہو تو پھر اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو محنت مزدوری نہ کرنی پڑے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں