ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ہم ٹی وی ہم جنس پرستی اور مغربی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں

پاکستان میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر “ہم ٹی وی” تمام حدیں عبور کر گیا۔ ہم ٹی وی پر اس کے ابتدائی ایام سے ہی
الزام لگتا رہا ہے کہ یہ ملک میں ہم جنس پرستی پھیلانے کے لیے یورپ سے فنڈنگ حاصل کر رہا ہے۔

ناقدین کہتے ہیں ہم ٹی وی کے “لوگو” میں رنگوں کی ترتیب وہی ہے جو دنیا میں ہم جنس پرستوں کی نمائندہ
تنظیم کے رنگ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہم ٹی وی نے ملک میں بےہودگی کو پروان چڑھایا۔

ہم ٹی وی کے ڈرامے بھی متنازع کہانیوں پر مبنی ہوتے ہیں جس میں نوجوان کو بے راہ روی کی طرف مبذول کرنے
کی کوشش کی جاتی ہے۔ تقریبا ہر ڈرامے میں پیار اور محبت کے نام پر لڑکیوں کو گھر سے بھاگ کر شادی کرتا
دیکھایا جاتا ہے۔


سالی اور بہنوئی کے رشتے کو متنازع کر کے ان کا آپسی میں جنسی تعلق بھی ہم ٹی وی پر دیکھایا گیا۔
اور تو اور یہ کریڈیٹ بھی ہم ٹی وی کو حاصل ہے کہ اس نے ڈراموں میں انتہائی متنازع اور بولڈ سین
دیکھائے جن کو خاندان کے ساتھ دیکھنا بھی مناسب نہیں۔

اب حالیہ ہم ٹی وی کے ایوارڈز کو ہی دیکھ لیں جس میں ایکٹرز نے نامناسب لباس زیب تن کیے۔
ایکٹرسز نے مغربی طرز کے لباس زیب تن کر رکھے تھے جن میں اپنے نسوانی حسن کو جان بوجھ کر ننگا
کیا گیا۔

ہم ٹی وی کے ایوارڈز کو سوشل میڈیا پر خوب تنقید کا سامنا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ولایتی پیکنگ میں
دیسی چیزوں کی رونمائی کی کوشش کی گئی۔

پاکستانی اداکاراوں نے مغربی لباس پہنا لیکن ان کو اس لباس کے ساتھ چلنا تک نہ آئے۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ کوا ہنس کی چال چلنے کی کوشش میں اپنی چال بھی بھول گیا۔
صارفین نے ہم ٹی وی پر الزام عائد کیا کہ یہ بیرونی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے ملک میں ہم جنس پرستی اور
مغربی اقدار کو فروغ دے رہا ہے۔
اسوشل میڈیا پر مسلسل اس شو کے بارے میں ٹرولنگ جاری ہے صارفین نے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری
اتھارٹی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ٹاک شوز پر تو نوٹس لیتا ہے لیکن اسے اسلامی اقدار پائمال کرنے والے
شوز دیکھائی نہیں‌ دیتے؟

The post ہم ٹی وی ہم جنس پرستی اور مغربی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں appeared first on Khabarwalay.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں