ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کرونا وائرس سے تعلیمی اداروں کی بندش؛ ’غریب خاندانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے‘

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ‘یونیسف’ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث اسکولوں کی بندش کی وجہ سے پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں میں کروڑوں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بچوں کی تعلیم کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لیے یونیسف نے حکام پر زور دیا ہے کہ اسکول کو محفوظ انداز میں کھولنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث بندش کے دوران حکومتوں اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر شراکت داروں نے آن لائن تعلیم کے سلسلے کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔

یونیسف کے مطابق آن لائن تعلیم کو وسعت دینے کے اقدامات کے باوجود پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بچوں کے سیکھنے کے مواقع میں تشویش ناک حد تک عدم مساوات پیدا ہو گئی ہے۔

بھارت، مالدیپ، پاکستان اور سری لنکا میں کرونا وائرس وبا کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ’یونیسف‘ کی تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔

پاکستان: آن لائن تعلیم دینے والے اداروں کو درپیش چیلنجز





please wait



No media source now available

عالمی ادارہ برائے اطفال کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی وفاقی حکومت، صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکام نے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے تمام سرکاری اور نجی اسکول 15 ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یونیسف کا کہنا ہےکہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں اسکولوں کی بار بار بندش کی وجہ سے 43 کروڑ 40 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر کون؟

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 23 فی صد بچے ایسے ہیں جن کے پاس آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ ڈیوائس کی سہولت موجود نہیں ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے غریب اور محروم خاندانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان میں سے کئی خاندانوں کے لیے ایک انٹرنیٹ ڈیوائس کا حصول بھی مشکل ہے۔

یونیسف نے خطے کی حکومتوں پر بچوں کی تعلیم اور سیکھنے کے عمل کو مؤثر اور یقینی بنانے کے لیے ترجیحی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔

کیا 'آن لائن ایجوکیشن' ہی ہمارا مستقبل ہے؟





please wait



No media source now available

عالمی ادرے نے جنوبی ایشیا کے ممالک پر اسکولوں کو محفوظ انداز میں کھولنے کے ساتھ ساتھ معیاری آن لائن تعلیم کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔

’ازالہ ممکن ہے‘

ماہرِ تعلیم اے ایچ نیئر نے وائس آٖف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کو غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ پاکستان میں اسکولوں کی بار بار بندش بچوں اور طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ یقیناً متاثر ہوا ہے۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کرونا وبا کے ختم ہونے کے بعد بچوں کی تعلیم میں ہونے والے نقصان کو خصوصی اضافی کلاسوں اور تعطیلات کو محدود کر کے دور کیا جاسکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں