ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اندرونی معاملات میں دخل اندازی قبول نہیں ،امداد دینے پر ممنون ہیں،طالبان

کابل،دوحا(صباح نیوز،آن لائن) اندرونی معاملات میں دخل اندازی قبول نہیں،امداد دینے پر ممنون ہیں، طالبان۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے افغانستان پر غیرملکی دبا ئوکو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے، پاکستان، قطر، ازبکستان ،ترکی اور چین کا تعاون کرنے اور امداد دی ان ممالک کے ممنون ہیں، جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے وہ منصوبوں کومکمل کریں، بھرپورتعاون کریں گے، سرمایہ کار افغانستان آئیں مکمل سیکورٹی فراہم کریں گے۔کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان عبوری خارجہ نے کہا کہ ہمیں قطر، پاکستان اور ازبکستان سے امدادی ملی ہے، ہم ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ چند ممالک نے امداد کو اپنے مطالبات سے مشروط کردیا ہے۔ ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن کسی ملک کے دبائو میں نہیں آئیں گے۔ مولوی امیر خان متقی نے کہاکہ وزارت خارجہ کے سابق اہلکار اپنا کام جاری رکھیں، ہمارے سفارتخانوں میں موجود اہلکار اب بھی افغانستان کے نمائندے ہیں۔ سابق حکومت کے کیے گئے معاہدے قومی مفاد میں ہوئے تو وہ جاری رہیں گے، یہ معاہدے ہمارے نظریات اور مذہب سے متصادم نہیں ہونے چاہییں۔مولوی امیر خان متقی نے کہاکہ گزشتہ دنوں جو حکومت بنی وہ مکمل طور پر مخلوط حکومت ہے، ہماری کابینہ میں تمام گروہوں کے لوگ شامل ہیں، آنے والے دنوں میں اس میں مزید مثبت تبدیلی آئے گی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں،حتمی رضامندی ہونے تک کابینہ میں تبدیلی کرتے رہے ہیں، جہاں بھی نیا نظام آتا ہے وہاں اپنے اعتماد کے لوگ آتے ہیں، افغانستان میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، خواتین کے حقوق سے متعلق کچھ ملکوں کے اعتراضات ناقابل قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کی، اقوام متحدہ اور خطے کے ممالک کے نمائندگان کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا جن کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ علاوہ ازیں طالبان ترجمان محمد سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت ہے اندرونی معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ غیرملکی ویب سائٹ سے انٹرویو میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ موجودہ افغانستان کی حکومت ایک عارضی حکومت ہے۔ یہ حکومت لوگوں کو ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے دستانے پہننا یا نہ پہننا ذاتی مسئلہ ہے، یہ ایک خاتون کا ضمیر ہے۔ یہ تھوپا نہیں گیا ہے۔ کچھ خاتون اینکر نیوز رپورٹ کرتے یا پڑھتے وقت اپنا چہرہ دکھاتی ہیں اور انہیں ڈھکتی نہیں ہیں۔ کچھ ٹیچرز بھی ایسا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حقانی اور طالبان کے درمیان اختلافا ت کی خبریں بے بنیاد ہیں جنہیں ہمارے مخالفین کے ذریعے بار بار پھیلایا جارہا ہے لیکن ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کسی اور ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔دریں اثناء ترجمان طالبان دوحہ آفس ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا ہے کہ افغانستان کی عبوری کابینہ کے ارکان نے کام شروع کردیا ہے طالبان حکومت تمام ملکوں کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتی ہے۔ ہم تنازعات اور جنگ و جدل کی بجائے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، چین بھی اقتصادی قوت ہے جس کے ساتھ اچھے روابط کے خواہاں ہیں ۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی )کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کابل میں بننے والی نئی حکومت ایمرجنسی کی حالت میں ہے یہ ایسی حالت ہے جو تمام دنیا کیلیے غیر متوقع تھی ایسے میں عبوری حکومت کا قیام ازحد ضروری بات تھی کیونکہ عوام کے مسائل تھے اور اسلامی امارات کی خواہش تھی کہ عوام کے مسائل حل ہوں اور کاروبار زندگی رواںدواں ہو اور اسی مقصد کیلیے عبوری کابینہ قائم کی گئی اب دیکھنا یہ ہے کہ کب تک حالات معمول پر آتے ہیں اور عوامی مشکلات میں کمی آتی ہے تب تک یہی عبوری کابینہ ہی کام کرتی رہے گی اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے اور تنازع نہیں چاہتے۔ترجمان طالبان نے کہاکہ پاکستان ایک انتہائی اہم پڑوسی ملک ہے۔ 40 سال سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں ایران میں بھی مہاجرین موجود ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ کئی مشترکات ہیں۔ پاکستان کے ساتھ برادرانہ مشترکات ہیں۔ بھائی چارے کا تعلق ہے ۔ ثقافتی اور دینی مشترکات ہیں ہم سب ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں خصوصی طورپر پاکستان کے ساتھ اچھے روابط اور بہترین تعلقات کے متمنی ہیں ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں