ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

افغان حکومت کو کمزور کرنا کسی کے مفادمیں نہیں ،عبوری وزیرخارجہ

دوحا،کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان کی نئی حکومت نے امریکا اور یورپ کے سفرا کو خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کے ذریعے انہیں مسلسل دباؤ میں رکھنے کی کوششوں سے سیکورٹی میں کمزوری پیدا ہونے کے ساتھ معاشی مہاجرین کی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دوحا میں گفتگو کے دوران مغربی سفرا کو بتایا کہ افغان حکومت کو کمزور کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ اس کے منفی اثرات دنیا کو سلامتی کے شعبے میں متاثر کریں گے اور ملک سے معاشی ہجرت ہوگی۔ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ امیر خان متقی نے دوحا اجلاس کو بتایا کہ ہم دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ موجودہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے بینکوں کو معمول کے مطابق کام کرنے دیں تاکہ مخیر گروپس، تنظیمیں اور حکومت اپنے ذاتی ذخائر اور بین الاقوامی مالیاتی مدد سے عملے کی تنخواہیں ادا کر سکیں۔علاوہ ازیںطالبان نے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش خراساں کے خلاف آپریشن تیز کردیا۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے افغان صوبے ننگر ہار میں دہشتگرد تنظیم داعش خراساں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان فورسز نے صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں 2 الگ الگ مقامات پر آپریشن کیا۔رپورٹس کے مطابق طالبان کے آپریشن میں داعش سے تعلق رکھنے والے 4 جنگجو مارے گئے ہیں۔ دریں اثناء افغانستان میں برسر اقتدار آنے والی طالبان حکومت نے کابل کے مشہور ’بش بازار‘ کا نام تبدیل کر دیا۔یہ بازار 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد قائم ہوا تھا اور اس کا نام اْس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے نام پر ’بش بازار‘ رکھا گیا تھا۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے اب اس بازار کا نام ’مجاہدین بازار‘ رکھ دیا ہے اور بازار کے داخلی دروازے پر نئے نام کا بینر بھی لگا دیا ہے۔اس سے قبل طالبان کابل کے ہوائی اڈے اور کابل یونیورسٹی کا نام بھی تبدیل کر چکے ہیں۔قبل ازیںافغان طالبان نے ملک میں ویمن کرکٹ سمیت خواتین کے کھیلوں پر باضابطہ پابندی لگانے کی تردید کردی۔الجزیرہ کے مطابق اگست میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے کھیلوں کا مستقبل غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ سیکڑوں کھلاڑی خصوصا خواتین کھلاڑی یا تو بیرون ملک چلے گئے ہیں یا پھر اسپورٹس سے دور رہ کر خاموشی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔الجزیرہ نے افغان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین عزیز اللہ فضلی سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام سے بات ہوئی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ سرکاری طور پر خواتین کے کھیلوں خصوصا ویمن کرکٹ پر کوئی پابندی نہیں، ہمیں خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے کوئی مسئلہ نہیں۔عزیز اللہ فضلی نے بتایا کہ انہیں طالبان نے خواتین کو کرکٹ کھیلنے سے روکنے کا حکم نہیں دیا ہے، ہماری 18 سال سے خواتین کی کرکٹ ٹیم ہے، اگرچہ وہ محدود پیمانے پر ہے، تاہم ہمیں اس معاملے میں اپنے مذہب اور ثقافت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے، اگر خواتین شائستہ لباس پہنیں تو ان کا کھیلوں میں حصہ لینا معیوب نہیں، اسلام میں خواتین کو نیکر پہننے کی اجازت نہیں، جیسا کہ دوسری ٹیمیں پہنتی ہیں، خصوصا فٹ بال میچ میں، لہذا ہمیں اس چیز کا خیال رکھنا ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں