ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت : اقلیتوں کیخلاف سیاسی جماعتوں کی ماحول سازی

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں انتہاپسند حکومت اور سیاسی جماعتوں کے گٹھ جوڑ کے باعث مسلمانوں پر زمین تنگ ہوگئی اور انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک بھر میں اقلیتی برادری میں خوف کا ماحول ہے، جب کہ مفاد پرست سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی نے ہندوؤں کو مزید دلیر بنادیا ہے۔ ملک بھر میں سخت ہندو ؤں کے ہجوم کی جانب سے مسلمانوں پر بلا اشتعال حملے معمول بن چکے ہیں۔ آئے مسلمانوں کو زدوکوب کیے جانے کی وڈیو سامنے آتی رہتی ہے،جسے دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے،تاہم اس کے باوجود بھارتی حکام اور سیاسی قیادت کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ حکومت کی جانب سے ایسے واقعات کی مذمت یا افسوس کا اظہار تک نہیں کیا جاتا۔ بھارت میں انتہاپسند طبقے کی جانب سے جبری طور پر مسلمانوں سے اپنی رائے منوانا عام ہوگیا ہے۔ اتوار کے روز ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں 2لڑکوں کو راستے میں روک کر اس قدر مارا پیٹا گیا کہ وہ اسپتال جانے پر مجبور ہوگئے،جب کہ ملزمان کی نشان دہی کے باوجود کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل دہلی سے متصل غازی آباد کے ایک مندر کے احاطے میں 10برس کا مسلم لڑکا غلطی داخل ہوگیا تھا، جسے پجاریوں نے مارپیٹ کے بعد جاسوسی کے الزام میں پولیس کے حوالے کردیا۔ اس کے علاوہ مختلف واقعات میں مسلمانوں کی داڑھی نوچنے اور جے شری رام کے نعرے لگوانے کی وڈیو سامنے آچکی ہیں۔ یہ سب واقعات بھارتی میڈیااورٹی وی چینلوں پر نشر بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا تشدد کی ایک اور شکل یہ ہے کہ مسلمانوں کا معاشی سطح پر بائیکاٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر مقبول ہیش ٹیگ، ٹرینڈ اور وڈیوز کی بھرمار ہے۔ بھارت کے معروف سماجی کارکن جان دیال کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کاخاص سیاسی گروہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے اس طرح کی حرکتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ وہ مذہبی طور پر استیصال کر کے ایک کو اپنا دوست اور دوسرے کو دشمن بتا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور دیگر ترقیاتی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ملک کا دشمن بتایا جا رہا تاکہ عوام اسی مذہبی منافرت میں الجھے رہیں۔ ایک اور سینئر صحافی چارو کارتیکے کہتے ہیں کہ انہیں بھی موجودہ صورت پر تشویش لاحق ہے کہ آخر اس ملک میں یہ سب کچھ اتنی ڈھٹائی کیسے ممکن ہے۔ ہندو ؤں کی جانب سے مسلمانوں پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کرنے کے مترادف ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں