بھارت: گھریلو تشدد، گزشتہ دس برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

یوں تو بھارتی معاشرے میں گھریلو تشدد یا عورتوں کے ساتھ مار پیٹ ہونے کا معاملہ ہمیشہ سے ہی ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ تاہم یہ صورت حال کووڈ انیس کی عالمی وبا کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈا ن میں مزید سنگین شکل اختیار کر گئی تھی اور اس عرصے میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافے کی شرح نے پچھلے دس سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔
لاک ڈان نافذ کرتے وقت یہ نعرہ دیا گیا تھا کہ گھر میں رہو، محفوظ رہو”۔ اس نعرے نے یہ سوال کھڑا کیا کہ بھارتی گھر کتنے محفوظ ہیں؟ گزشتہ سال لاک ڈان کے چار مرحلوں کے دوران گھریلو تشدد کے حوالے سے، جو جائزے منظر عام پر آئے ہیں، وہ ایک خطرناک رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔
مارچ تا ستمبر2020 کے درمیان نیشنل کمیشن فار ویمن میں گھریلو تشددکی 13,000 شکایات درج ہوئیں۔ اعداد وشمار کے مطابق جب 25 مارچ سے 31 مئی 2020 تک سخت لاک ڈان نافذ تھا، اس دوران 1,477 متاثرہ خواتین نے شکایات درج کروائیں۔ صوبے کے اعتبار سے خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات ریاست اتراکھنڈ میں پیش آئے حالانکہ وہاں کی آبادی دیگر صوبوں کی نسبت کم ہے۔
اس کے بعد ہریانہ ہے، جو پہلے ہی عورتوں کے ساتھ نارواسلوک کے حوالے سے خاصا بدنام ہے۔ وفاقی دارالحکومت نئی دہلی کا نمبر تیسرا ہے۔ یہ بھی بات قابل ذکر ہے کہ متاثرہ خواتین کی 86 فی صد تعداد نے اپنے تحفظ کے لیے کوئی مدد حاصل نہیں کی جبکہ 77 فیصد نے ان پر ہوئے ظلم وستم کا کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ تاہم گھریلو تشدد کے واقعات میں یہ غیرمعمولی اضافہ اس بڑے برفانی تودے کی طرح ہے، جس کا ایک چھوٹا سا سرا ہی سمندر کی سطح پر نظر آتا ہے۔ حقیقت میں یہ تعداد لاکھوں میں ہو گی۔
ملک کے دوسرے بڑے صوبے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انڈین پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسر پروشوتم شرما پر اپنی بیوی کے ساتھ مار پیٹ کرنے کا کیس درج ہوا۔ وہ ڈائریکٹوریٹ آف پبلک پراسیکیوشن کے سربراہ ہیں۔ حالانکہ ان کی شادی کو ہوئے 32 سال ہو رہے ہیں۔ اپنی ماں کے ساتھ ہو رہی اس مارپیٹ کے بارے میں تحریری شکایت خود ان کے بیٹے پارتھ گوتم شرما نے صوبہ کے وزیراعلی، وزیر داخلہ اور صوبہ کے پولیس سربراہ سے کی ہے۔ بیٹا بھی انڈین رینیو سروس کا افسر ہے۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے خاندان میں پیش آیا، وہ اعلی تعلیم یافتہ اور اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہے۔
نیشنل کرائم ریکار ڈ بیورو نے سال 2019 کے جو اعداد وشمار جاری کیے تھے، ان کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم کے چار لاکھ سے زائد کیس درج ہوئے۔ ان میں سے تقریبا ایک لاکھ چھبیس ہزار گھریلو تشدد کے معاملے ہیں۔
بہرحال یہ بھی حقیقت سامنے رہنی چاہیے کہ متاثرین میں سے صرف سات فی صد خواتین ہی شکایت درج کرواتی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلم خاندان بھی لاک ڈان کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ گو بھارتی حقوق نسواں کمیشن نے مذہب کی بنیاد پر اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں مگر ان کے مطالعے سے اس تشویش ناک رجحان کی تصدیق ہوتی ہے کہ مسلم معاشرہ بھی اس رجحان کا شکار ہوا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں