پیٹرول پمپس بند رکھنے کا اعلان،متضاد دعوے ،ملک بھر میں افراتفری

کراچی: پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر شہریوںکی بڑی تعداد پیٹرول ڈلوانے پمپ پرموجود ہے، چھوٹی تصویر لاہور اور اسلام آباد کی ہے

کراچی /لاہور/اسلام آباد/پشاور/کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر+نمائندگان جسارت+آن لائن) پاکستان پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں آج سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرول پمپس مالکان کو آج صبح 6 بجے سے پیٹرول پمپ بند رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سے ملک بھر بشمول گلگت بلتستان،آزاد جموں کشمیر اور چترال میں پیٹرول پمپس بند رہیں گے، حکومت نے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب تک کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے جب کہ ہمیں یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی اور ہم نے 5 نومبر کی ہڑتال کی کال واپس کی تھی لیکن حکومت نے یقین دہانیوں پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا، اب جب تک ڈیلر مارجن 6 فیصد نہیں کیا جاتا حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ادھر پیٹرول پمپس بند ہونے کی خبر میڈیا پر آتے ہی عوام میں بے چینی اور افراتفری پھیل گئی اور ملک کے بیشتر شہروں میں پمپس پر رش لگ گیا، شہریوں کی جانب سے گاڑیوں اور بوتلوں میں اضافی پیٹرول لینے سے متعدد پمپس پر پیٹرول ختم ہوگیا۔اس موقع پر پی ایس او، شیل اورٹوٹل نے پیٹرولیم ڈیلر کی ہڑتال سے لاتعلقی اورپیٹرول پمپس کھلے رکھنے کا اعلان کیا۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہمارے وہ تمام پیٹرول پمپس جو کمپنی کے زیر ملکیت اور زیر انتظام ہیں، بدستور کھلے رہیں گے اور معمول کے مطابق کام کریں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ان پیٹرول پمپس پر ایندھن ملے گا جو براہ راست کمپنی آپریٹ کرتی ہے البتہ پی ایس او کے وہ پمپس جو کسی اور کی ملکیت میں چلائے جارہے ہیں وہ بند ہوں گے۔پی ایس او نے اس حوالے سے کمپنی کی زیر ملکیت چلنے والے پیٹرول پمپس کی فہرست بھی جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان بھر میں ایسے پمپس کی تعداد صرف 23 ہے جن میں سے سب سے ز یادہ 7 پمپس کراچی میں ہیں۔پی ایس او کے ان 23 پمپس کے کھلے رہنے کے باوجود ہڑتال کی وجہ سے ایندھن کی کمی پوری نہیں ہوسکتی کیوں کہ محض 23 پمپس ملک بھر کے شہریوں کی ضرورت کو پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔علاوہ ازیں پاکستان میں ایندھن فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں شیل، ٹوٹل اور دیگر کمپنیز کے ترجمانون کا بھی کہنا ہے کہ کل ملک بھر میں کمپنی کے پیٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ادھر ترجمان وزارت پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ آئل سپلائی میں مستعدی کے لیے ٹینکرز کو روانہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پیٹرول پمپس کے ساتھ مذاکرات طے پاگئے ہیں اور آج (جمعرات کو ) ملک بھر میں پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے ۔آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کے لیے وزارت کوشاں ہے، پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن بڑھانے کے لیے کیس اقتصادی رابطہ کمیٹی بھجوا دیا گیا ہے،وفاقی کابینہ کے ذریعے سے 10 روز میں فیصلے کا امکان ہے۔وزارت پیٹرولیم کے مطابق آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا ہے عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہاکہ ہم پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ان کے مارجن پر نظرثانی کے حوالے سے سمری ای سی سی میں پہلے ہی پیش کی جا چکی ہے، اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔پیٹرولیم ڈیلر کی جانب سے حکومت سے مذاکرات طے پانے کی رات گئے تک تصدیق نہیں کی گئی اور ہڑتال کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ اس صورتحال پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول پمپس کی بندش کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ترجمان اوگرا کے مطابق ڈیلرز مارجن میں اضافے کے حوالے سے چند عناصر پیٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اوگرا نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ تمام آؤٹ لیٹس پر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ترجمان کا کہنا تھاکہ اوگرا کی ٹیمیں فیلڈ میں صورتحال کی نگرانی کریں گی،کسی بھی طرح سے سپلائی میں تعطل پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں