کراچی کے تمام کلبز اسکروٹنی نتائج کو مسترد کرتے ہیں، جمیل احمد

کراچی (رپورٹ: مقصود احمد)  کرکٹ کلبز نے انکے ساتھ پی سی سی کی جانب سے ہونے والی زیادتی کے خلاف سر اٹھا لیا ہے اور زیادتی کے خلاف تمام کلبز نے اتحاد کرتے ہوئے کراچی کرکٹ کلب الائینس کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کردی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 سال سے زیادتی برداشت کررہے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہوگا اور اگر خاموش رہے تو کراچی کی کرکٹ مکمل تباہ  طور پر ہوجائے گی .اس کے لیے سب کو احتجاجا کرنا ہوگا، اور کراچی کے تمام کلبز اسکروٹنی کے غیر منصفانہ نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔

 کراچی کا کوئی کلب دس ہزار روپے خرچ کرکے اپیل نہیں کرے گا،کراچی کے تمام کلبز نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی سی بی کی جانب سے منعقد ہونے والے کسی بھی ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کریں گے،سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن میں موجود کراچی دشمن عناصر کو ہٹایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار کراچی کرکٹ کلب الائینس کے کنوینرجمیل احمد نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کنوینر توصیف صدیقی، امجد علی، افضل قریشی، عارف وحید، مظہر اعوان،شہزاد عالم، ڈاکٹر عارف حفیظ، جنید غفور، محمد ریئس، حارث کاظمی، محمد نظام اور دیگر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے قبل کراچی پریس کلب کے باہر زبردست احتجاجہ مظاہرہ کیا گیا جس میں کراچی کے تمام ڈسٹرکٹس کے کلبوں کے عہدے دار اور کھلاڑیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جس نے پی سی بی اسکروٹنی کمیٹی کی نا انصافی کے خلاف اور اسکروٹنی نا منظور نامنظورکےنعرے لگائے۔

پریس کانفرنس کے دوران جمیل احمد کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت پورے پاکستان میں کلب اسکروٹنی آخری مراحل میں ہے البتہ کراچی کے ساتوں ڈسٹرکٹ میں اسکروٹنی کا عمل 14ستمبر 2022 کو مکمل ہوگیا تھا اور تمام کلب عہدیداران اسکروٹنی نتائج کا انتظار کررہے تھے جب اسکروٹنی کے نتائج آئے تو کلب عہدیداران حیرانگی کے ساتھ ساتھ پریشانی کا بھی شکار ہوگئے کیونکہ کراچی کے بیشتر کلبز کو بوگس یعنی جعلی قرار دیا جاچکا تھا۔

 وہ کلبز جو چالیس چالیس سال سے باقاعدگی سے چل رہے ہیں اُنہیں معمولی معمولی اعتراضات لگا کر جعلی قرار دے دیا گیا اور کوئی وجہ بھی نہیں بتائی۔ کراچی کے تمام کلبز اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ہم کراچی کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم کراچی کے کھلاڑیوں کو اُن کا حق دلاکر رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کلبز کی مدد کرنے کے لئے کام کرتا ہے نا کہ وہ کلب سے پیسہ بٹورتا پھرے۔توصیف صدیقی نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ہر معاملے میں سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔ پی سی بی نے 19 اگست 2019 کو یک جنبشِ قلم 2014 کا آئین معطل کرکے 2019 کا ظالمانہ آئین متعارف کرایاتھا جس نے پاکستان کی کرکٹ کو وہ ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا ازالہ آنے والے دس سالوں میں بھی ممکن نہیں ہے،

لہذا ہم بھرپور انداز میں وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، چیئر مین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2019 والے کرکٹ دشمن آئین کو معطل کرکے 2014 والا کرکٹ دوست آئین بحال کیا جائے، اس آئین کے بحال ہونے سے ڈیپارٹمنٹ بھی بحال ہوجائیں گے۔ ریجنز بھی بحال ہوجائیں گے۔

 ڈسٹرکٹ بھی بحال ہوجائیں گے۔ کلب کی حیثیت بھی بحال ہوجائے گی اور گراس روٹ کی کرکٹ جو تباہ و برباد ہوچکی ہے اُس نرسری کو دوبارہ ہرا بھرا کیا جا سکے گا، اس وقت پاکستان کرکٹ پر ایک ایک دن گراں گُذر رہا ہے لہذا 2014 کا آئین بحال کرانے کی جدوجہد میں تیزی لائی جائے گی اور اس احتجاج کا دائرہ کراچی کے بعد نا صرف سندھ بلکہ پاکستان بھر میں وسیع کیا جائے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں