ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرئیل یرغمالی واپس چاہتا ہے تو مطالبات پورے کرے، حماس نے خبر دار کر دیا

غزہ: حماس نےاسرائیل کوخبردار کیا ہے کہ جب تک قیدیوں کی رہائی کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے کسی یرغمالی کو نہیں چھوڑیں گے۔

ایک ٹیلی ویژن بیان میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کو “بغیر کسی تبادلے اور مذاکرات اور مزاحمت کے مطالبات کو پورا کیے بغیریرغمالی واپس نہیں ملیں گے۔

حماس کے سینیئر اہلکار باسم نیم نے نومبر کے آخر میں کہا تھا کہ “ہمارے تمام قیدیوں کے بدلے تمام فوجیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔”

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 137 یرغمال ہیں جب کہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 7000 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں ہیں۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اب تک کے مہلک ترین حملے کے ساتھ تنازعہ شروع کیا جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس نے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کیا اور تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا یا ۔

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل نے ایک مسلسل فوجی کارروائی کے ساتھ جواب دیا ہے جس نے غزہ کا زیادہ تر حصہ ملبے میں تبدیل کر دیا ہے اور کم از کم 17,997 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اتوار کے روز، حماس اور اسلامی جہاد کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں گروپ خان یونس کے قریب اسرائیلی فورسز کے ساتھ “شدید جھڑپوں” میں مصروف تھے۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس سے ہار ماننے کا مطالبہ کیا ،انہوں نے غزہ میں حماس کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ”یہ حماس کے خاتمے کا آغاز ہے۔ میں حماس کے دہشت گردوں سے کہتا ہوں یہ ختم ہو گیا ہے۔  سنوار کے لیے مت مرو۔ اب ہتھیار ڈال دیں ۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے 24 گھنٹوں کے دوران 250 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں “حماس کی فوجی مواصلاتی سائٹ”، جنوبی غزہ میں “زیر زمین سرنگ کی شافٹ” اور شیجائیہ میں حماس کا ایک فوجی کمانڈ سینٹر شامل ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ غزہ مہم میں 98 فوجی ہلاک اور 600 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں