ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نائب صدر کے لیے ری پبلکن امیدوار کا انتخاب، ٹرمپ کا اہم فیصلہ ہوگا

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک نائب صدر کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن میڈیا رپورٹس اور ٹرمپ انتخابی مہم سےیہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اب اور جولائی کے آخر میں ریپبلکن پارٹی کے کنونشن کے درمیان کسی وقت ایسا کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ یقیناً کوئی غیر متوقع فیصلہ بھی کر سکتے ہیں لیکن زیادہ تر رپورٹس بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی تلاش کو تقریباً پانچ ممکنہ ساتھیوں تک محدود کر دیا ہے۔ سرفہرست تین میں سے دو موجودہ امریکی سینیٹرز، مارکو روبیو اور جے۔ڈی۔ وینس اور ایک موجودہ گورنر، نارتھ ڈکوٹا کے ڈگ برگم شامل ہیں۔.

خیال کیاجاتا ہےکہ سینیٹر ٹم سکاٹ اور رکنِ کانگریس الیس سٹیفانک بھی زیر غور ہیں۔

ریپبلکن صدارتی ٹکٹ کے لیے نائب صدر کے ممکنہ نامزد امیدوار مختلف پس منظر اور مضبوطی کے حامل ہوں گے۔ بعض ٹرمپ کے اس سے پہلے تک سخت ناقد رہےتھے، جب وہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر ٹرمپ کے لیے متحد ہو گئے۔

ریپبلکن پارٹی کے لیے 2024 کے نائب صدارت کے ممکنہ امیدوار مارکو ربیو

ریپبلکن پارٹی کے لیے 2024 کے نائب صدارت کے ممکنہ امیدوار مارکو ربیو

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک سینئر فیلو ولیم اے گالسٹن کہتے ہیں کہ یہ انتخاب ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے بہت اہم ہے۔

گالسٹن نے VOA کو بتایا، ” سیاست میں اس کی انتہائی اہمیت، ڈاکٹروں کے"Hippocratic Oath کا سیاسی بیانیہ ہے کہ اخلاقی اور پروفیشنل معیارات کو برقرار رکھا جائے کیونکہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو چنتے ہیں جس کی خامیاں اعلان کے بعد جلد ہی سامنے آجائیں تو آپ کو اسکی ایک بڑی سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔”

انتخاب حکمت عملی کے تحت

اس بات کو یقینی بنانے کے علاوہ کہ امیدوار مہم کو نقصان نہیں پہنچائے گا ، حکمت عملی کے تحت کیے گئے انتخاب نے ماضی میں نائب صدارتی امیدوار چننے میں مدد دی ہے۔

بعض اوقات انتخاب صدر کی پارٹی کے دو دھڑوں کے درمیان کسی "دراڑ کو دور کرنے” کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گالسٹن نے نشاندہی کی کہ ریپبلکن پارٹی میں سب سے سنگین اختلاف ٹرمپ کے حامیوں اور ان ووٹروں کے درمیان ہے جنہوں نے ریپبلکن پرائمری میں سابق گورنر نکی ہیلی کو ان پرترجیح دی تھی۔ بظاہر ٹرمپ نے ہیلی کے دست بردار ہونے کے بعد ان سے بات نہیں کی، اور اس دراڑ کو پر کرنا ان کی ترجیح دکھائی نہیں دیتا۔




بعض اوقات نامزد امیدوار قریبی نظریاتی شراکت داروں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کی پالیسی کااعادہ کرتےہوں۔ یا وہ ’گورننگ پارٹنرز‘ کا انتخاب کریں گے، ایسےمستحکم، تجربہ کار رہنماؤں کا، جو ٹکٹ میں قابلیت کا اضافہ کرتے ہوں۔ اور کچھ اپنے ساتھ انتخاب لڑنے کے لیے ایسے ساتھیوں کو منتخب کرتے ہیں جن کو ان ووٹرز کی حمایت حاصل ہو جن تک نامزد امیدوار کا بصورتِ دیگر پہنچنا مشکل ہو۔

پہلی امریکی نسل کے نمائندے

سرفہرست تین امیدواروں میں سے روبیو واشنگٹن میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ایک وکیل، جو میونسپل،ریاستی اور قومی سطح پر25 سال سے زائد عرصے تک حکومت میں خدمات انجام دے چکے ہیں، ان میں سے آخری 13سال وہ سینیٹر رہے ہیں۔ وہ سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے وائس چیئر مین ہیں اور جب سینیٹ پر ریپبلکنز کا غلبہ تھا تو وہ بطور چیئر خدمات انجام دیتے تھے۔

53 سالہ روبیو شادی شدہ ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔ وہ میامی کے رہائشی ہیں۔ ان کے والدین کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب سے پہلے ترکِ وطن کر کے امریکہ آئے تھے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر وہ اکثر جارحانہ طرز عمل رکھتے ہیں۔

2016 کی ریپبلکن صدارتی پرائمری میں ایک امیدوار کے طور پر، روبیو ٹرمپ کے ایک انتہائی سخت نقاد تھے، جنہیں انہوں نے”کان آرٹسٹ” اور "شرمندگی” کے طور پر بیان کیا۔ اس کے بعد اب وہ کانگریس میں سابق صدر کے مستحکم ترین حامیوں میں سے ایک بن گئے ہیں۔




یونیورسٹی آف ورجینیا سینٹر فار پولیٹکس کے ڈائریکٹر لیری سیباتو نے VOA سے بات کرتے ہوئے کہا، "روبیو یقیناً سب سے زیادہ جانے پہچانے ہیں اور وہ درحقیقت [وینس اور برگم] سے زیادہ قابلِ قدر ہیں۔ وہ اپنے ساتھ کیا کچھ لاتے ہیں؟ یہ ہمیں دیکھنا ہوگا، لیکن وہ ہسپانوی بولتے ہیں، وہ کیوبن نژاد امریکی ہیں اور "لیٹینوز” کچھ حد تک ڈیموکریٹس سے دور ہو گئے ہیں۔”

وینس۔ ایک موثر پیغامبر

وینس سیاست میں سب سے کم تجربہ کار ہیں، وہ جنوری 2023 سے سینیٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے پہلے کوئی انتخابی عہدہ نہیں رکھتے تھے۔ اوہائیو کے رہنے والے ہیں۔ ان کی عمر 39 سال ہے۔ شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ ہائی اسکول کے بعد وہ میرین کور میں شامل ہو گئے بیچلرز ڈگری اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے سے پہلے انہوں نے عراق جنگ میں خدمات انجام دیں۔

وینس کو پہلی بار 2016 میں عوام کی توجہ اس وقت ملی جب انہوں نے اپنی کتاب "Hillbilly Elegy: A Memoir of a Family and Culture in Crisis” شائع کی، جس میں امریکہ کے Rust Belt یعنی شمال مشرقی اور وسط مغربی علاقوں کی ثقافت اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ وینس 2022 میں سینٹ کا انتخاب لڑنے سے پہلے ایک صنعتکار تھے۔

سابق صدر کی سیاست کے ابتدائی سالوں میں وینس، ٹرمپ کے سخت ناقد بھی تھے، ایک بار انہوں نےخود کو ایک ایسے ریپبلکن سے تعبیرکیا جو” ٹرمپ کبھی نہیں” کا حامل تھا اور وہ ٹرمپ کو ” Cultural Heroin” کہتے تھے۔


جارجیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مک کیمش پویلین میں نشریاتی ادارے سی این این کے تحت پہلے صدارتی مباحثے کے انتظامات کو آخری شکل دے دی گئی ہیں۔ بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان مباحثہ 27 جون کو ہو رہا ہے۔

جارجیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مک کیمش پویلین میں نشریاتی ادارے سی این این کے تحت پہلے صدارتی مباحثے کے انتظامات کو آخری شکل دے دی گئی ہیں۔ بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان مباحثہ 27 جون کو ہو رہا ہے۔

سابق صدر کے کامیابی کے ساتھ ریپبلکن پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد روبیو کی طرح وہ بھی ٹرمپ کے کھلے حمایتی بن گئے۔

بروکنگز کے گالسٹن کہتے ہیں کہ چونکہ ان کی آبائی ریاست کا ٹرمپ کو ووٹ دینے کا پہلے ہی بہت زیادہ امکان ہے اس لیے انہیں نائب صدر کا امیدوار بنانے سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔

تاہم، انہوں نے کہا، "وینس ٹرمپ کے پیغام کے ایک مؤثر پہنچانے والے ہوں گے، اگرچہ وینس کافی ہوشیار ہیں کہ وہ کبھی کبھار اپنے بارے میں سوچنے کی غلطی کا ارتکاب کریں۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی اختلاف پیدا ہو لیکن وہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا۔”

ایک خاموش مقابلہ

67 سالہ برگم شمالی ڈکوٹا کے رہائشی ہیں اور 2016 کے اواخر سے لے کر اب تک ریاست کے گورنر کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہوں نے اشارتأ کہا ہے کہ وہ تیسری مدت کے لیے کوشش نہیں کریں گے۔ ان کی پہلی شادی 2003 میں ختم ہوگئی تھی، اس سے ان کے تین بچے ہیں۔انہوں نے 2016 میں دوبارہ شادی کی۔

ایک امیر تاجر کی حیثیت سے برگم نے کئی کامیاب کمپنیاں بنائی ہیں، جن میں ایک اکاؤنٹنگ سوفٹ ویئر فرم بھی شامل ہے جسے انہوں نے 2001 میں مائیکرو سافٹ کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ میں فروخت کر دیا تھا۔۔

امریکی انتخابات: پہلا صدارتی مباحثہ اور ووٹروں کا ردِ عمل





please wait



No media source now available

برگم 2024 میں ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے امیدوار تھے لیکن دسمبر 2023 میں اس دوڑ سے باہر ہو گئے۔ اگرچہ وہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر معمولی تنقید کرتے رہے تھے، لیکن انہوں نے انتخابی سال کے اوائل میں سابق صدر کی حمایت کی توثیق کی اور ان کی انتخابی مہم اور میڈیا میں ان کی نمائندگی کے لیے موجود رہنے کا باقاعدہ آغاز کیا۔

"ورجینیا یونیورسٹی کے لیری سیباتو کہتے ہیں، "ٹرمپ انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بہتر محسوس کرتے ہیں،” سیباتو نے مزیدکہا۔ "وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور وہ بہت نرم گفتار ہیں، جب وہ ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر ہوتے ہیں تو ٹرمپ کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں کرتے۔

دیگر متبادل کیا ہیں؟

اگرچہ روبیو، وینس اور برگم کے قابلِ غور ہونے کے امکانات زیادہ نظر آتے ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ سکاٹ اور اسٹیفانک بھی زیر غور ہیں۔

سکاٹ، ساؤتھ کیرولائنا سے سینیٹر ہیں، 1995میں مقامی سیاست میں اپنے کیرئیر کے آغاز کے بعد سے عوامی عہدے پر ہیں۔ وہ 2013 سے سینیٹر ہیں اور اس سے قبل ایوان نمائندگان میں ایک مدت کے لیےخدمات انجام دے چکے ہیں۔

ایک افریقی امریکی کے طور پر، سکاٹ ٹرمپ کو سیاہ فام امریکیوں کی حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو آبادی کا وہ حصہ ہے جہاں ٹرمپ کی کارکردگی تاریخی طور پر اچھی نہیں رہی ہے۔ تاہم ساؤتھ کیرولائنا میں ٹرمپ کے جیتنے کے پہلے ہی امکانات ہیں، اس لیے سکاٹ کو نائب صدر کا امیدوار بنانے سے انھیں وہاں بہت کم فائدہ ہوگا۔

سٹیفانک نے 2015 سے ایوانِ نمائندگان میں اپنی نیویارک ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کی ہے اور وہ ہاؤس ریپبلکن کانفرنس کی چیئر ہیں، جو پارٹی کی قیادت میں ایک اہم منصب ہے۔ وہ ٹرمپ کی کھلی حامی ہیں جنہیں سابق صدر کی توجہ اس وقت ملی جب انہوں نے اس وقت ٹرمپ کا جارحانہ دفاع کیا جب ایوان نمائندگان ان کے پہلے مواخذے پر غور کر رہا تھا۔

امریکی انتخابات: ووٹنگ پر 6 جنوری کی بغاوت کا اثر





please wait



No media source now available

ایک خاتون کے طور پر، سٹیفانک ٹرمپ کو خواتین ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جس کے لیے سابق صدر کو جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ اسکاٹ کی طرح، ان کے انتخاب سے بھی ان کی اپنی ریاست میں ووٹرز پر ان کے اثر انداز ہونے کا امکان نہیں ہوگا۔

نیویارک نے 40 سال میں صدر کے لیے کسی ریپبلکن کو ووٹ نہیں دیا، اور 2020 میں اس کے 61 فیصد ووٹرز نے جو بائیڈن کی حمایت کی تھی، جبکہ 38 فیصد نے ٹرمپ کی حمایت کی۔

(راب گارور، وائس آف امیریکہ)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں