ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حیسکو بجلی کے ترسیلی نظام کو موثر بنائے، میئر حیدرآباد

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) میئر کاشف شورو نے تمام متعلقہ اداروں اور خصوصی طور پر حیسکو کو سختی سے ہدایت کی کہ بارشوں کے دوران فراہمی و نکاسی آب کا سارا نظام بجلی کی دستیابی پر منحصر ہے اور ماضی میں حیسکو کی غفلت کی وجہ سے تمام اداروں کی کوششیں رائیگاں جاتی رہی ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حیسکو بجلی کی ترسیل کی نظام کو مزید مؤثر بنائے اور بارش کے دوارن بجلی کا سپلائی بلاتعطل جاری رکھیںتاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ ہدایت انہوں نے شہباز ہال میں مون سون بارشوں کے پیش نظر انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے افسران کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ میئر نے واسا اور ایچ ڈی اے کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔ انہوں نے تمام اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ سب ادارے مون سون کے حوالے سے اپنے اپنے پلان شیئر کریں تاکہ جہاں کہیں بھی گنجائش موجود ہو اسے بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے میئر کاشف شورو کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اپنے کانٹیجنسی پلان کو ضرورت کے مطابق اپڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعلقہ لطیف آباد میں جہاں جہاں ڈرینج نالے بند تھے ان کی صفائی کی گئی ہے جبکہ قاسم آباد میں ونچ مشینز مسلسل کام کر رہی ہیں، عوام کو مختلف مسائل بھی درپیش ہیں جن میں حیسکو کی کیپیسٹی، فنڈز کی کمی اور ڈرینج شامل ہیں، محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی کے آخر میں اور اگست میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے لیے اپنے تمام وسائل کے ساتھ تیار ہیں، بارش کے دوران پمپنگ اسٹیشنز کے لیے صرف حیسکو پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوگا، ہمیں اس کے لیے جنریٹر سسٹم کو متبادل سورس کے طور پر مکمل فعال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں صحت، ریسکیو اور دیگر تمام خدمات کی فراہمی والے اداروں کو الرٹ کردیاگیا ہے اور ضلعی و تعلقہ سطح پرکنٹرول روم قائم کردیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے اجلاس کو بتایا کہ نالوں کی صفائی جاری ہے اور جہاں پر انکروچمنٹ ہے وہاں پر ضرور کچھ مشکلات کا سامنا ہے لیکن ہم اس مسئلے کو بھی حل کر رہے ہیں/ حیدرآباد میں 118 پمپنگ اسٹیشنز ہیں جن میں 52 پر اسٹینڈ بائی جنریٹرز موجود ہیں اور وہ مکمل طور پر فعال ہیں، اس کے علاوہ شہر میں جہاں پر بھی پرانی اور خستہ حال عمارتیں ہیں ان کو خالی کرنے کے لیے بھی کوشش کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کے پاس وسائل اور مشینری موجود ہے اور ان کا بڑا اہم کردار ہے، ریسکیو ادارے بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے اہلکار اور وہ خود بھی روزانہ کی بنیاد پر رات کو مختلف علاقوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے میئر حیدرآباد کو درخواست کی کہ مون سون کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف ایک موثر آپریشن کیا جائے تا کہ شہر کے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں