ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ: اسرائیل کا بے گھر افراد کے کیمپ پر فضائی حملہ،29فلسطینی شہید

غزہ : اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونیوالے مشرقی علاقہ شجاعیہ کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کررہی ہے
غزہ : اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونیوالے مشرقی علاقہ شجاعیہ کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کررہی ہے

غزہ /تل ابیب / جنیوا /ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسکول کے قریب پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 29 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے مشرق میں اباسان الکبیرہ قصبے میں العودہ اسکول کے قریب قائم پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں29 فلسطینی شہید ہوگئے۔ زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام نے اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ غزہ میں اقوام متحدہ کے ادارے اونرا کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپا مار کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کا کمانڈو مارا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس کے اسنائپر کے حملے میں ہلاک ہونے والے کمانڈو کی شناخت21 سالہ میگلان کے نام سے ہوئی جو اسرائیلی فوج کے کمانڈو یونٹ میں تعینات تھا۔میگلان کی ہلاکت کے بعد غزہ میں حماس کے ساتھ دو بدو جنگ میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 327 ہوگئی۔اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں غذائی قتل کی ٹارگٹڈ مہم شروع کر رکھی ہے جس کے باعث بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے10 آزاد ماہرین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر فلسطینیوں کے خلاف غذائی قحط کی مہم شروع کر رکھی ہے جو کہ نسل کشی کی ایک قسم ہے اور جس کے باعث غزہ میں بچے بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفارتی مشن نے یو این ماہرین کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ماہرین پر غلط معلومات پھیلانے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے پروپیگنڈے کو عام کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے 6 ماہ کے شیر خوار بچے، 9 سالہ کمسن اور 13 سالہ لڑکے کی موت واضح کرتی ہے کہ بھوک و افلاس شمالی غزہ سے وسطی اور جنوبی غزہ تک پھیل چکی ہے۔خان یونس میں زیر علاج ایک بچے کی والدہ نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کا بچہ بھوک کے باعث مر جائے گا، یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے کہ میں جنگ کی وجہ سے اپنے بچے کو کچھ بھی نہیں دے سکتی۔ آئی پی سی کے مطابق غزہ میں 4 لاکھ 95 ہزار سے زاید افراد بدترین غذائی قحط سالی کا شکار ہیں ۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ نے تنازع فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل کو ناگزیر بنا دیا ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مملکت کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہم موجودہ سیاسی افراتفری میں عالمی نظام کے قوانین کے نفاذ پر زور دیتے رہیں گے‘ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی، خطے میں امن اور سلامتی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا‘عالمی برادری اس بات پر متفق ہے کہ خطے میں استحکام کا حل صرف فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔دوسری جانب غزہ کی پٹی پراسرائیلی جنگ کو روکنے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکراتی کوششیں جاری ہیں ، عرب میڈیا ذرائع نے دوحا میں غزہ معاہدے کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ حزب اللہ کے ڈرون طیارے کی مقبوضہ گولان پٹی پر پرواز سے اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی۔عرب میڈیا کے مطابق ہدہد 2 نامی ڈرون نے مقبوضہ گولان پٹی کا فضائی جائزہ لیا اور حساس مقامات کی وڈیو بھی بنائی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق 10 منٹ دورانیے کی وڈیو میں مقبوضہ گولان پٹی میں اسرائیلی فوج کی 17 تنصیبات کو دکھایا گیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق وڈیو میں نظر آنے والی تنصیبات میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈ کواٹرز، توپ خانے، آئرن ڈوم پلیٹ فارم اور ریڈار شامل ہیں۔ ڈرون کی فوٹیج سامنے آنے پر اسرائیلی وزیر خارجہ کی جانب سے حزب اللہ کے سربراہ کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیزی نہ روکی گئی تو لبنان کی تباہی کا ذمہ دار حزب اللہ ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں