ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

متنازع علاقوں میں بھارتی منصوبوں پر چین برہم

آسٹریا کے چانسلر کارل نیہامر نریندر مودی کے ساتھ سیلفی لے رہے ہیں

نئی دہلی؍ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی جانب سے متنازع علاقے میں بجلی گھر منصوبوں پر بیجنگ نے اعتراض اٹھادیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت نے متنازع ریاست اروناچل پردیش میں بجلی گھر منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں 12 پن بجلی گھروں کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کیے گئے۔ دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کو جنوبی تبت میں تعمیری منصوبوں پر کام کرنے کا حق حاصل نہیں۔ واضح رہے کہ اروناچل پردیش چین اور بھارت کے درمیان سرحدی متنازع علاقہ ہے۔ اروناچل پردیش کو بھارت اپنا علاقہ جبکہ چین اسے جنوبی تبت کا علاقہ قرار دیتا ہے۔دوسری جانب بھارتی وزیراعظم روس کے بعد 2روزہ دورے پر آسٹریا پہنچ گئے۔ اس موقع پر آسٹریا کے چانسلر کارل نیہامر نے نریندر مودی کی آمد کے تاریخی موقع پر سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ 41 برسوں میں یہ کسی بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے آسٹریا کا پہلا اور تاریخی دورہ ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 1983 ء میں آسٹریا کا دورہ کیا تھا۔ ویانا میں اپنے قیام کے دوران نریندر مودی آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وان ڈیر بیلن سے ملاقات کریں گے اور کاروبار سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بھارتی وزیر اعظم آسٹریا کے 2 روزہ دورے کے دوران دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات اور ویانا میں بھارتی کمیونٹی کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید تقویت دینے کے علاوہ بھارت اور آسٹریا کے کاروبار میں اضافہ کرنا ہے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں