مشرق وسطیٰ میں جنگی فضا، پاکستان سے مزید 155 پروازیں منسوخ
خطے میں جاری شدید کشیدگی کے باعث پاکستان سے مشرق وسطیٰ جانے والی پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور مزید 155 فلائٹس آپریٹ نہ ہوسکیں۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد شامل ہیں جہاں درجنوں پروازیں شیڈول کے باوجود منسوخ کر دی گئیں، جس سے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی سے 38، لاہور سے 32 اور اسلام آباد سے 36 پروازیں منسوخ کی گئیں، جب کہ پشاور، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان اور کوئٹہ بھی اس بحران کی لپیٹ میں رہے۔
اب تک صرف 4 روز کے دوران پاکستان سے مشرق وسطیٰ جانے والی منسوخ پروازوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے، جو ملکی فضائی آپریشن کے لیے غیر معمولی صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی فضائی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چار دن میں مشرق وسطیٰ کی 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
ایران میں فضائی حدود کی مسلسل بندش کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں معطل کی گئیں، جبکہ خطے کے 7 بڑے ہوائی اڈوں پر 10 ہزار کے قریب فلائٹس آپریٹ نہ ہوسکیں۔ تل ابیب کے مرکزی ایئرپورٹ سے بھی 4 روز میں 1600 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
اردن، بیروت، حیفہ، دمشق، نجف اور بصرہ کے ایئرپورٹس بھی اس بحران سے محفوظ نہ رہ سکے۔ خلیجی ریاستوں میں دبئی، ابوظبی، شارجہ، دوحہ، کویت اور بحرین کے ہوائی اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں مسافروں کا غیر معمولی رش دیکھا گیا۔
حکام کے مطابق 8 ممالک کی فضائی حدود بدستور بند ہیں جس کے باعث فلائٹ آپریشن مکمل طور پر معطل ہے۔
ابوظبی اور دبئی ایئرپورٹس پر پھنسے مسافروں کو محدود پروازوں کے ذریعے روانہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اتحاد ایئرویز نے 24 پروازیں چلانے کے بعد آپریشن عارضی طور پر روک دیا، جبکہ امارات ایئرلائن نے بھی چند پروازیں روانہ کیں تاہم بعض کو واپس موڑنا پڑا۔
اندازوں کے مطابق اوسطاً 160 مسافروں والی پروازوں کے حساب سے تقریباً 26 لاکھ افراد اس بحران سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات جلد معمول پر نہ آئے تو عالمی فضائی صنعت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔