پاکستان

کراچی میں غیر تربیت یافتہ سکیورٹی گارڈز پر سوالات، بلیک لسٹنگ کی تیاری

کراچی میں غیر تربیت یافتہ نجی سکیورٹی گارڈز شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بننے لگے ہیں۔

نارتھ ناظم آباد میں سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے نوجوان ولید کی ہلاکت کے بعد نجی سکیورٹی کمپنیوں کے معیار اور نگرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پولیس نے متعلقہ کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق جس کمپنی کے گارڈ نے فائرنگ کی، اسے بلیک لسٹ کرنے کے لیے خط لکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ، سندھ پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی خطوط ارسال کیے جا رہے ہیں تاکہ شہر میں کام کرنے والی تمام پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔

پولیس حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ ویسٹ میں سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ کے تین واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں تین افراد جان سے جا چکے ہیں۔ متعدد کمپنیوں کے پاس تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے اور بیشتر گارڈز بنیادی اسلحہ استعمال، ہنگامی صورتحال یا ہجوم کنٹرول کی مناسب تربیت سے محروم ہیں۔ کئی کمپنیاں قواعد کے مطابق باقاعدہ تربیتی مراکز کے بجائے غیر معیاری ’’ان ہاؤس‘‘ تربیت پر انحصار کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر تربیت یافتہ گارڈز نہ صرف خود خطرے میں ہوتے ہیں بلکہ عوامی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کم از کم تربیتی معیار مقرر کرے، نفسیاتی جانچ اور بیک گراؤنڈ ویریفکیشن لازمی قرار دے، اور نجی سکیورٹی کمپنیوں کا باقاعدہ آڈٹ اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button