اسرائیل نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملے کی تصدیق کر دی
اسرائیل نے ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر پر کیے گئے مبینہ حملے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ایرانی میزائل حملہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کو ہدف بنا کر کیا گیا تھا، تاہم اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام متعلقہ ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایک روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر پر میزائل داغے ہیں۔ تاہم اُس وقت اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی، آج جاری ہونے والے سرکاری بیان میں اس حملے کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے اپنے دعوے میں کہا تھا کہ کارروائی میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے اور اسرائیلی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی اعلامیے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حملے کا مقصد صہیونی قیادت کو جواب دینا تھاجبکہ بن یامین نیتن یاہو کی حالت سے متعلق فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے نقصانات کی نوعیت پر تفصیل جاری نہیں کی، تاہم سرکاری مؤقف میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ملکی دفاعی نظام فعال ہے اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا گیا۔
مزید برآں ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود اڈے شامل ہیں۔ ان حملوں کے بارے میں متعلقہ ممالک کی جانب سے تاحال کوئی جامع ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ ایران نے مئی 2023ء میں “خیبر شکن” میزائل کی رونمائی اور آزمائشی تجربہ کیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس میزائل کی مار دو ہزار کلومیٹر تک ہے اور یہ تقریباً ڈیڑھ ہزار کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے تہران اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں اہم پیش رفت قرار دیتا ہے۔