عالمی حالات

خامنہ ای کی شہادت،راہل گاندھی نے مودی کوآڑے ہاتھوں لے لیا

دہلی:ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے معاملے میں کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی اور انھیں آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔

راہل گاندھی نے ہندوستانی حکومت کوایران جنگ اورآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل سے متعلق اپنا رخ اخلاقی طورپرواضح کرنے کی اپیل کی ،ساتھ ہی وزیراعظم مودی کی خاموشی پرسوال بھی اٹھایا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم مودی کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟

کانگریس کے سابق صدراوررکن پارلیمنٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیراعظم مودی کی ”خاموشی“ سے دنیا بھرمیں ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔

 انہیں اپنے رخ کوکھل کربتانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پرامریکا اوراسرائیل کے حملے اورکئی خلیجی ممالک پرایرانی حملے، دونوں کی مذمت کی جانی چاہیے، کیونکہ جنگ ہرمسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے۔

 راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا، اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی دشمنی ایک حساس خطے کووسیع ترتنازعات کی طرف دھکیل رہی ہے۔

 لاکھوں افراد بشمول تقریباً 10 ملین ہندوستانی شہریوں کوغیریقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی کے خدشات حقیقی ہیں اورخودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے صرف بحران میں اضافہ کریں گے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سونیا گاندھی نے کہا کہ اخلاقی طاقت کو”دوبارہ دریافت“ کرنے اوراس کا واضح اورعزم کے ساتھ اظہارکرنے کی فوری ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یکم مارچ کوایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کوایک دن پہلے امریکا اوراسرائیل کی طرف سے کیے گئے ٹارگٹ حملوں میں قتل کردیا گیا تھا۔

جاری مذاکرات کے درمیان ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل عصری بین الاقوامی تعلقات میں سنگین دراڑپیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود، اس حیران کن واقعہ پرنئی دہلی کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔

 سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے نہ تواس قتل کی مذمت کی ہے اورنہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کیے جانے پرسوال اٹھایا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button