اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو کوریج، 2 ترک صحافی گرفتار
تل ابیب:اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے باہر لائیو نشریات کرنے والے دو ترک صحافیوں کو سیکیورٹی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد آزادی صحافت اور جنگی حالات میں میڈیا کی رسائی سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ترک زبان کے چینل سے وابستہ ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور دیگر علاقوں کی صورتحال کی کوریج کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں صحافی اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر، یعنی کریا ملٹری کمپلیکس کے قریب کیمروں کے ساتھ موجود تھے اور براہِ راست نشریات جاری تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی اور حساس مقامات کے اطراف میڈیا کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی تھی۔ لائیو نشریات کے دوران ہی دو فوجی اہلکار موقع پر پہنچے اور رپورٹر کا موبائل فون اپنی تحویل میں لے لیا، بعد ازاں پولیس نے دونوں صحافیوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ دو مشتبہ افراد ایک غیر ملکی میڈیا چینل کے لیے حقیقی وقت میں ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔ جب اہلکاروں نے ان سے شناخت طلب کی تو انہوں نے پریس کارڈ پیش کیے، وہ کارڈ معیاد ختم ہونے کے باعث قابل قبول نہیں تھے، جس پر انہیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔
ادھر ترکیہ کا صدارتی محکمۂ مواصلات کے سربراہ نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں، جنگی حالات میں بھی صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔