امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے، 787 شہری شہید
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل و امریکا کے درمیان جاری فضائی تصادم نے ایک بار پھر خطے میں انسانی و عسکری بحران کو جنم دیا ہے، چار روز سے جاری فضائی حملوں میں ایران میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 787 تک پہنچ گئی ہے۔
ایرانی ہلال احمر کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے چار روز کے دوران ایران کے 153 شہروں کو نشانہ بنایا جبکہ فضائی حملوں میں 504 اہم مقامات پر بمباری کی گئی۔ دونوں ممالک کی مشترکہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار 39 حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو سنگین نقصان پہنچا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے پانچ اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
ادھر ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، تہران کی افواج نے بحرین میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اور تقریباً 20 ڈرونز اور 3 بیلسٹک میزائل داغے۔
امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کنٹرول اور کمانڈر سنٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے اپنے میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر عسکری اہداف کو بھی حفاظتی اقدامات کے باوجود فعال رکھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی شروع کردہ یہ کارروائیاں اب پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہیں اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع، بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور خطے میں سیاسی و اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی برادری نے اس تنازع کی شدت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ سفارتی حلقے کسی فوری اور پائیدار حل کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ مزید انسانی اور عسکری نقصان کو روکا جا سکے۔