English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت: مسلمانوں کیخلاف متنازع بل پرسینیئر پولیس افسر احتجاجاً مستعفی

بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کے خلاف ریاست مہاراشٹرا کا سینیئر پولیس افسر اپنے عہدے سے احتجاجاً مستعفی ہوگیا۔

پولیس افسر عبدالرحمان نے متنازع بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس بل کا مقصد قوم کو تقسیم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بل سے مسلمانوں میں مزید خوف پھیلے گا۔

سینیئر افسر عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ وزیرداخلہ نے پارلیمنٹ میں گمراہ کن اور غلط حقائق پیش کیے جس کی مذمت کرتا ہوں۔

گزشتہ ہفتے بھارت کے ایوان زیریں میں وزیرداخلہ امیت شاہ نے ایک بل پیش کیا۔ بل کے مطابق پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش سے بھارت آنے والے مسلمانوں کے بجائے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی۔

اس متنازع بل کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں 12 گھنٹے بحث کے بعد کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔


مسلم مخالف بل راجیہ سبھا میں پیش، بھارت میں کشیدگی، مظاہرے، آسام میں فوج طلب

نئی دہلی: بھارت میں لوک سبھا کے بعد مسلم مخالف متنازع شہریت ترمیم بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا جس کے بعد اس بل پر عمل درآمد کے لیے تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں جبکہ بل کے خلاف مشتعل مظاہروں کو بزور طاقت روکنے کیلیے آسام میں فوج طلب کرلی گئی ہے۔

متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت میں احتجاج جاری ہے، ریاست تریپورہ میں احتجاج میں شدت آنے پر موبائل، انٹرنیٹ اور میسج سروس 48 گھنٹوں کے لیے بند کردی گئی جبکہ آسام کے شہر گوہاٹی میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

بھارتی لوک سبھا (ایوان زیریں) میں بل کی منظوری کے بعد راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں بھی اسے منظور کرلیا گیا ہے اور صدر کے دستخط کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ شہریت ترمیمی بل 2019ء کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیش کیا، بل میں بنگلہ دیش، افغانستان، پاکستان کی6 اقلیتی برادریوں کوبھارتی شہریت دینے کی تجویز ہے، بل کے حق میں 125 اور مخالفت میں 105 ووٹ ڈالے گئے۔

بل کے تحت 2015 سے قبل بنگلا دیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے ہندو، بدھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دی جاسکے گی جبکہ ان ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ بل منظور ہونے پر کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے آج کے دن کو پارلیمنٹ کی قانون سازی کا ’سیاہ ترین دن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بل پیش کرنے اور اس کی حمایت کرنے والوں نے تنگ نظری اور تعصب کا مظاہرہ کیا۔ اس قانون کی منظوری سے بھارت کے بنیادی اساس اور نظریات پر کاری ضرب لگی ہے اور اس بل سے ہماری پہچان سیکولر ازم کے بجائے ہندو انتہا پسندی بنادی گئی ہے۔جبکہ پی چدم برم کا کہنا تھا کہ حکومت ہندوتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہے۔

ادھر معتصبانہ بل کے خلاف بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں احتجا ج کا سلسلہ جاری ہے، تریپورہ میں مظاہرین نے احتجاج کے دوران کئی دکانوں کو آگ لگادی۔تریپورہ میں احتجاج میں شدت آنے پر موبائل، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروس48 گھنٹوں کے لیے بند کردی گئی ہے۔آسام سمیت دیگر شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بل کے خلاف غصے کا اظہار کیا جارہا ہے،آسام کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر گاڑیوں کی آمدو رفت بلاک کردی، جبکہ گوہاٹی میں حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو کا نفاذ کیا گیا ہے۔

ریاست آسام میں دو ماہ قبل ہی 20 لاکھ مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا، یہ وہ لوگ تھے جو نسلوں سے آسام میں ہی آباد تھے۔ یہ کارنامہ بھی بی جے پی کے ایک رکن نے 2014ء میں عدالت عظمیٰ میں ایک مقدمہ درج کراکے انجام دیا تھا۔ جس کے باعث آسام میں شہری پہلے ہی اشتعال میں تھے۔بھارت کے تاریخی شہرالہ آباد کا نام تبدیل کر دیا گیاتھا۔واضح رہے کہ پیر کے روز بھارتی لوک سبھا میں کثرت رائے سے منظور ہونے والے بل میں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی 6 مذہبی اکائیوں ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کی تجویز رکھی گئی ہے اور مسلمانوں کو محروم رکھا گیا ہے جس پر امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارتی قیادت پر پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے