کراچی: وفاقی وزیر اسدر عمر کی سربراہی میں تحریک انصاف کا وفد ایم کیو ایم کو منانے کے لیے عارضی مرکز بہادر آباد پہنچ گیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی سب سے اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کا وفد بہادرآباد میں واقع پارٹی کے عارضی مرکز پہنچا۔ اسد عمر کی سربراہی میں آنے والے وفد میں حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان اور فردوس شمیم نقوی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید جمیل سمیت دیگر نے استقبال کیا۔
تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے دوران اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ آپ کیوں ناراض ہوگئے، اب ناراضگی ختم کریں، ایم کیوایم کے مطالبات درست ہیں انہیں ہمیشہ تسلیم کیا ہے، معاملات الگ ہونے سے نہیں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل ہوں گے۔ جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں بات چیت نہیں نتیجہ چاہیے۔ ایک ارب دینے کے لیے کتنی منت سماجت کرنا پڑے گی اور ہم اپنے لیے نہیں بلکہ کراچی کا حق مانگ رہے ہیں۔
حکومتی وفد کی بہادر آباد آمد سے قبل گورنر ہاؤس میں سندھ انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور کراچی بحالی کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا تاہم ایم کیو ایم اور میئر نے اس میں شرکت نہیں کی۔
گورنر ہاؤس کراچی میں انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور کراچی بحالی کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر اسد عمر اور وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، رکن اسمبلی خرم شیر زمان اور حلیم عادل شیخ بھی شریک تھے تاہم میئر کراچی وسیم اخےتر سمیت ایم کیو ایم کی جانب سے کوئی بھی شریک نہیں ہوا۔
اجلاس میں ایس آئی ڈی سی ایل نے آئندہ مالی سال کےلیےترقیاتی پلان پیش کردیا جب کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر شرکا کو بتایا گیا کہ شیرشاہ اور نشتر روڈ کی تعمیر کی اسکیم آئندہ ماہ مکمل ہوجائے گی جب کہ سخی حسن، فائیو اسٹار اور کےڈی اے چورنگیوں پر فلائی اوورز کا تعمیراتی کام 80فیصد مکمل ہوچکا ہے، گرین لائن میٹرو منصوبے کے لیے بسوں کی خریداری کے لیے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نےاکتوبر 2019میں منظوری دی تھی تاہم اس کا ٹینڈر تاحال جاری نہیں کیا گیا کیونکہ اس سلسلے میں ایکنک سے بھی منظوری درکار ہے۔

