English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسئلہ کشمیر ،دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان سنگین تنازعہ بن سکتا ہے ، نعیم صدیقی

ان دنوں وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں۔ ان کے ہمراہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی ذوالفقار بخاری اور معاون خصوصی برائے قومی سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف ہیں۔اس کے علاوہ ان کے وفد میں مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی ڈیووس میں وزیراعظم کے ساتھ شریک مختلف ملاقاتوں اور مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس دورے سے پاکستان کو کیا معاشی فوائدحاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب بھی کر چکے ہیں۔مذکورہ دورے کے 2 اہم نکات ہیں، جس میں وزیراعظم عمران خان کا عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے اہم خطاب اور سی ای اوز اور کارپوریٹ لیڈرز کے ساتھ پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ پر بات چیت کرنا ہے۔اجلاس کی سائڈ لائن پر وزیراعظم عمران خان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ مختلف عالمی رہنماں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کی ہیں اس کے علاوہ کارپوریٹ، بزنس، ٹیکنالوجی اور فنانس ایگزیکٹو اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مختلف ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ سوٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میںانھوں نے دنیا بھر سے آئے مختلف ممالک کے سربراہان ،کاروباری شخصیات اور مختلف وفود کے سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں کے دوران انھوں نے جہاں مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بڑے پرزور انداز میں پیش کیا ہے وہاں بھارت کا دہشت گردی سے بھرپور کرادر بھی کھول کر بیان کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ اور امریکی صدرڈونلڈٹرمپ پر زوردیا ہے کہ وہ تنازع کا شکار خطے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں۔ امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی بات کی گئی ہے،عمران خان نے صدر ٹرمپ کو کشمیر کی موجودہ صورتحال اور لاک ڈائون کے باعث گذشتہ چھ ماہ سے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے بدترین مظالم سے بھی آگاہ کیا ہے جس پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیشکش کی ہے اس سے قبل جب عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے گئے تھے تو اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بہت ہی خطرناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمرا خان کا کہنا تھا کہ کشمیر اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے جتنا لوگ یا دنیا سمجھتی ہے مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آرایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کے بارے ان کا کہنا تھاکہ’80 لاکھ لوگ گزشتہ سال 5 اگست سے محاصرے میں ہیں، بھارتی فورسز ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو تحویل میں لے چکی ہے اور ان کے تمام سیاسی رہنماوں کو گرفتار کرلیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو بھی خبردار کیا کہ یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں اور پاکستان صرف قیام امن میں ہی شراکت داری کرے گا۔ عمران خان نے بجا طور پر یاد دلایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو ستر لاکھ سے زائد جانی نقصان ہوا اور مالی نقصان ایک اندازے کے مطابق سو ارب ڈالر سے زیادہ ہوا ہے۔عمران خان نے موجودہ پاکستان کی درست تصویر کشی کی ہے کہ اب پاکستان ایک محفوظ ملک ہے جہاں کاروبار کے شاندار مواقع ہیں اب ساری دنیا سے سرمایہ کاروں کو پاکستان کا رخ کرنا چاہیئے کیونکہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہاں افرادی قوت کی بھی فراوانی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کوغیر مسلح کردیا ہے اور وہ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستانی قوم امید کرتی ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکی صدر مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے مداخلت کریں گے کیونکہ بھارت تمام اخلاقی اور انسانی حدود پار کر چکا ہے اسے امن کی زبان سمجھ نہیں آرہی۔وزیراعظم پاکستان کی اس بات پر توجہ دینا ہو گی کہ کشمیر کی عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے دیا جانا چاہیے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ بھارتی انتہا پسند وزیراعظم مودی کو پاکستان کی جانب سے امن اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی بات سمجھ آتی ہے یا پہلے کی طرح نریندر مودی مقبوضہ وادی اور بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات جاری رکھے گا۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف لائے امتیازی قانون کو بھارت کی تمام اقلیتوں اور خود بھارت کے عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے جس کے رد عمل میں گذشتہ کئی روز سے بھارت میں جلسے، جلوس،ہڑتالیں اور مودی مخالف مظاہرے عروج پر ہے ۔

ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس دورے سے پاکستان کو کیا معاشی فوائدحاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب بھی کر چکے ہیں۔مذکورہ دورے کے 2 اہم نکات ہیں، جس میں وزیراعظم عمران خان کا عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے اہم خطاب اور سی ای اوز اور کارپوریٹ لیڈرز کے ساتھ پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ پر بات چیت کرنا ہے۔اجلاس کی سائڈ لائن پر وزیراعظم عمران خان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ مختلف عالمی رہنماں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کی ہیں اس کے علاوہ کارپوریٹ، بزنس، ٹیکنالوجی اور فنانس ایگزیکٹو اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مختلف ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ سوٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میںانھوں نے دنیا بھر سے آئے مختلف ممالک کے سربراہان ،کاروباری شخصیات اور مختلف وفود کے سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں کے دوران انھوں نے جہاں مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بڑے پرزور انداز میں پیش کیا ہے وہاں بھارت کا دہشت گردی سے بھرپور کرادر بھی کھول کر بیان کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ اور امریکی صدرڈونلڈٹرمپ پر زوردیا ہے کہ وہ تنازع کا شکار خطے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں۔ امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی بات کی گئی ہے،عمران خان نے صدر ٹرمپ کو کشمیر کی موجودہ صورتحال اور لاک ڈائون کے باعث گذشتہ چھ ماہ سے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے بدترین مظالم سے بھی آگاہ کیا ہے جس پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیشکش کی ہے اس سے قبل جب عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیلئے گئے تھے تو اس وقت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بہت ہی خطرناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمرا خان کا کہنا تھا کہ کشمیر اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے جتنا لوگ یا دنیا سمجھتی ہے مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پر انتہا پسندانہ نظریہ غالب آچکا ہے جسے ہندوتوا یا آرایس ایس کہا جاتا ہے اور نریندر مودی اس انتہا پسند تنظیم کا تا حیات رکن ہے۔مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کے بارے ان کا کہنا تھاکہ’80 لاکھ لوگ گزشتہ سال 5 اگست سے محاصرے میں ہیں، بھارتی فورسز ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو تحویل میں لے چکی ہے اور ان کے تمام سیاسی رہنماوں کو گرفتار کرلیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو بھی خبردار کیا کہ یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے جو دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہیں اور پاکستان صرف قیام امن میں ہی شراکت داری کرے گا۔ عمران خان نے بجا طور پر یاد دلایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو ستر لاکھ سے زائد جانی نقصان ہوا اور مالی نقصان ایک اندازے کے مطابق سو ارب ڈالر سے زیادہ ہوا ہے۔عمران خان نے موجودہ پاکستان کی درست تصویر کشی کی ہے کہ اب پاکستان ایک محفوظ ملک ہے جہاں کاروبار کے شاندار مواقع ہیں اب ساری دنیا سے سرمایہ کاروں کو پاکستان کا رخ کرنا چاہیئے کیونکہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہاں افرادی قوت کی بھی فراوانی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کوغیر مسلح کردیا ہے اور وہ پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستانی قوم امید کرتی ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکی صدر مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے مداخلت کریں گے کیونکہ بھارت تمام اخلاقی اور انسانی حدود پار کر چکا ہے اسے امن کی زبان سمجھ نہیں آرہی۔وزیراعظم پاکستان کی اس بات پر توجہ دینا ہو گی کہ کشمیر کی عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنے دیا جانا چاہیے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ بھارتی انتہا پسند وزیراعظم مودی کو پاکستان کی جانب سے امن اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی بات سمجھ آتی ہے یا پہلے کی طرح نریندر مودی مقبوضہ وادی اور بھارت کے اندر بھی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات جاری رکھے گا۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف لائے امتیازی قانون کو بھارت کی تمام اقلیتوں اور خود بھارت کے عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے جس کے رد عمل میں گذشتہ کئی روز سے بھارت میں جلسے، جلوس،ہڑتالیں اور مودی مخالف مظاہرے عروج پر ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے