نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی مدارس میں ہندو طلبہ کی تعداد حیران کن طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے مدرسہ بورڈ کے امتحانات 10 فروری سے شروع ہو چکے ہیں، جس میں 70 ہزار طلبہ شریک ہیں۔ بورڈ کے صدر ابوطاہر قمر الدین کا کہنا ہے کہ امتحان دینے والے طلبہ میں ہندوؤں طالب علموں کی تعداد تقریباً 15 فیصد ہے جب کہ گزشتہ برس بورڈ کا امتحان دینے والوں میں 12.77 فیصد طلبہ ہندو تھے۔ بورڈ کے صدر نے انکشاف کیا کہ غیر مسلم طلبہ کی تعداد میں ہر سال 2 سے3 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو بچوں کے والدین انہیں خود داخلہ دلواتے ہیں کیوں کہ یہاں کا نصاب تعلیم دیگر بڑے اداروں جیسا ہے، یہاں عربی اور اسلامی تاریخ کے ساتھ اسمارٹ کلاسز بھی ہوتی ہیں، جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ سہولت عموماً دیگر اسکولوں میں دستیاب ہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم بالخصوص غریب طبقے کے ہندو اپنے بچوں کو مدارس میں داخلہ دلواتے ہیں، جن میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف مغربی بنگال نہیں، پرولیا، بیروبھوم اور بانکوڑا اضلاع کے مدارس میں مسلمانوں کے بجائے غیر مسلم طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔
بھارت کے مدارس میں ہندو طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی
القمر
